ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 79 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 79

میجسٹریٹوں کے پاس تھا۔نہیں معلوم کہ انہوں نے کس رعب میں آ کر بہت ہی واضح اور بیّن وجوہات کو نظر انداز کر دیا اور مجھ پر جرمانہ کیا لیکن آخر جب اس کی اپیل ایک انگریز حاکم کے پاس ہوئی تو اس نے بری کر دیا اور مجسٹریٹ کی کارروائی پر افسوس کیا اور کہا کہ جو مقدمہ اپنے ابتدائی مرحلہ پر خارج کے قابل تھا اس پر اس قدر وقت ضائع کیا گیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں میں ابھی تک عدل اور انصاف کا مادہ موجود ہے۔اگر کسی قسم کا مذہبی تعصب یا بغض ہوتا تو کم از کم میرے ساتھ تو ضرور برتا جاتا۔تین لاکھ کے قریب جماعت ہے پھر افغانستان کے لوگ بھی آ آ کر بیعت کرتے رہتے ہیں اور ایک نیا فرقہ ہونے کی وجہ سے بھی گورنمنٹ کی نظر اور توجہ اس طرف ہونی چاہیے تھی مگر دیکھ لو کہ قریب آٹھ کے ہمارے مقدمات ہوئے ہیں جن میں سے سوائے ایک دو کے باقی کل مخالفین کی طرف سے ہم پر تھے مگر سب میں کامیابی ہم کو ہی حاصل ہوئی ہے۔اور انگریزوں نے ہی ہمارے حق میں فیصلے دیئے ہیں۔اگرچہ ہم ان سب کامیابیوں کو خدا کی طرف سے ہی سمجھتے ہیں کیونکہ اگر وہ نہ چاہتا تو یہ لوگ کیا کرتے۔مگر جن لوگوں کے ذریعہ اور ہاتھوں سے اس کی نصرت ہمارے شامل حال ہوئی وہ بھی قابل شکر کے ہیں۔جہاں تک میرا خیال بلکہ یقین ہے وہ یہ ہے کہ ابھی تک ان لوگوں میں تعصب نہیں ہے اور آئندہ کا حال خدا کو معلوم ہے اور اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اگر ان لوگوں کو خدمت دین ہی مطلوب ہے اور ان کی غرض خدا کو راضی کرنا ہے تو چھپ کر بیٹھ رہنے سے کیا فائدہ؟ ان کو چاہیے کہ خدمت دین کا ایک پہلو ہاتھ میں لیں۔گورنمنٹ کی طرف سے کسی قسم کی سختی ہرگز نہیں ہے۔لوگوں کو تبلیغ اور اتمام حجت کریں۔یہ خیال بالکل غلط ہے کہ واعظ لوگوں کو گورنمنٹ گرفت کرتی ہے۔ہرگز نہیں۔ہاں جو لوگ مفسد ہوتے ہیں وہ ضرور خود ہی گرفت کے قابل ہوتے ہیں۔گورنمنٹ کا اس میں کیا قصور؟ اب تو عیسویت کا یہ حال ہے کہ اس پر خود بخود موت آرہی ہے۔خود ان کے بڑے بڑے عالم اور فاضل تثلیث کے پکے دشمن ہوگئے ہیں اور نئی تعلیم نے ان کے دلوں میں یہ بات کوٹ کر بھر دی ہے کہ بناوٹی خدا اب کام نہیں آسکتا۔پادریوں کی یہ حالت ہے کہ صرف ٹکڑے کی خاطر کام کر رہے ہیں۔ایک دن تنخواہ کو دیر ہو جاوے تو