ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 78 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 78

۱۱؍فروری ۱۹۰۵ء (بوقتِ ظہر) انگریزوں کی حکومت میں رہنے کا مسئلہ ظہر کی نماز ادا فرما کر حضرت اقدس تشریف لے گئے لیکن جناب صاحبزادہ سراج الحق صاحب نعمانی کے اقارب میں سے ایک صاحب مولوی احمد سعید صاحب انصاری سہارنپوری برادر زادہ و شاگرد خلیفہ محی السنۃ و قامع البدعۃ حافظ حدیث جناب مولانا شیخ محمد انصاری سہارنپوری مولداً مکی مہاجراً مرحوم احقاق حق کے خیال سے تشریف لائے ہوئے تھے۔اس لیے صاحبزادہ صاحب نے حضور اقدس سے ان کی ملاقات کی درخواست کی۔جس پر حضور علیہ السلام اسی وقت تشریف لے آئے اور تھوڑی دیر مجلس فرمائی۔بعد استفسار اسم و سکونت و مختلف اذکار کے مسئلہ جہاد کا تذکرہ ہوا۔جس میں ضمناً بعض ان گروہوں کا ذکر بھی آگیا جو کہ ہر ایک کافر کو بذریعہ تلوار قتل کر دینے کو غزا قرار دیتے ہیں اور انگریزوں کے ملکوں میں رہنا بدعت اور کفر خیال کرتے ہیں۔اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ان کا یہ خیال کہ ہم کفر کے اثر سے بچنے کے لیے الگ رہتے ہیں اور اگر انگریزوں کی رعیت ہو کر رہیں تو آنکھوں سے کفر اور شرک کے کام دیکھنے پڑیں اور مشرکانہ کلام کان سے سننے پڑیں، میرے نزدیک درست نہیں ہیں۔کیونکہ اس گورنمنٹ نے مذہب کے بارے میں ہر ایک کو اب تک آزادی دے رکھی ہے اور ہر ایک کو اختیار ہے کہ وہ امن اور سلامت روی سے اپنے اپنے مذہب کی اشاعت کرے۔مذہبی تعصب کو گورنمنٹ ہرگز دخل نہیں دیتی۔اس کی بہت سی زندہ نظیریں موجود ہیں۔ایک دفعہ خود عیسائی پادریوںنے ایک جھوٹا مقدمہ خون کا مجھ پر بنایا۔ایک انگریز اور عیسائی حاکم کے پاس ہی وہ مقدمہ تھا اور اس وقت کا ایک لیفٹیننٹ گورنر بھی ایک پادری مزاج آدمی تھا مگر آخر اس نے فیصلہ میرے حق میں دیا اور بالکل بری کر دیا۔بلکہ یہاں تک کہا کہ میں پادریوں کی خاطر انصاف کو ترک نہیں کر سکتا۔اس کے بعد ابھی ایک مقدمہ فیصلہ ہوا ہے پہلے تو وہ ہندو