ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 80 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 80

کام چھوڑ دیتے ہیں اور خود عیسائی مذہب کی ردّ میں کتابیں لکھتے ہیں۔اس زمانہ کا جہاد اب یہ زمانہ کسر صلیب کا ہے۔تقریر کے مقابلہ پر تلوار سے کام لینا بالکل نادانی ہے۔خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ جس طرح اور جن آلات سے کفار لوگ تم پر حملہ کرتے ہیں انہی طریقوں اور آلات سے تم ان لوگوں کا مقابلہ کرو۔اب ظاہر ہے کہ ان لوگوں کے حملے اسلام پر تلوار سے نہیں ہیں بلکہ قلم سے ہیں۔لہٰذا ضرور ہے کہ ان کا جواب قلم سے دیا جاوے اگر تلوار سے دیا جاوے گا تو یہ اعتدا ہوگا جس سے خدا تعالیٰ کی صریح ممانعت قرآن شریف میں موجود ہے اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ(البقرۃ:۱۹۱)۔پھر اگر عیسائیوں کو قتل بھی کر دیا جاوے تو اس سے وہ وساوس ہر گز دور نہ ہوں گے جو کہ دلوں میں بیٹھے ہوئے ہیں بلکہ وہ اور پختہ ہو جاویں گے اور لوگ کہیں گے کہ واقعی میں اہل اسلام کے پاس اپنے مذہب کی حقانیت کی دلیل کوئی نہیں ہے لیکن اگر شیریں کلامی اور نرمی سے ان کے وساوس کو دور کیا جاوے تو امید ہے کہ وہ سمجھ جاویں گے اور ہم نے دیکھا کہ بعض عیسائی لوگ جو یہاں آتے ہیں ان کو جب نرمی سے سمجھایا جاتا ہے تو اکثر سمجھ جاتے ہیں اور تبدیل مذہب کر لیتے ہیں (جیسے کہ ماسٹر عبد الحق صاحب نومسلم) پس ہماری رائے تو یہ ہے کہ جہاں تک ہو سکے کمر بستہ ہو کر دین کی خدمت میں مصروف ہوں کیونکہ یہ وقت اسی کام کے لیے ہے اگر اب کوئی نہیں کرتا تو اور کب کرے گا؟ بعض ایسے لوگ جن تک حضور علیہ السلام کی بعثت اور دعاوی کی مفصل کیفیت نہیں پہنچی تاہم وہ حسن ظن رکھتے ہیں اور بسبب دور ہونے کے یقینی فیصلہ نہیں کر سکتے۔ان کے ذکر پر آپ نے فرمایا کہ نیک لوگوں کا یہی شیوہ ہوتا ہے کیونکہ ان کو کامل علم نہیں ہے اور علم اصل میں اسی کو کہتے ہیں جبکہ انسان کی واقفیت رؤیت کے قائم مقام ہو۔الہامات کے ذکر پر فرمایا کہ قضا و قدر کے اسرار چونکہ عمیق در عمیق ہوتے ہیں اس لیے بعض وقت الہامات اور رؤیا کی تفہیم میں انسان کو غلطی لگ جاتی ہے۔