ملفوظات (جلد 7) — Page 77
شرک سے پرہیز ظہر کے وقت حضور علیہ السلام تشریف لائے تو آپ کے ایک خادم آمدہ از کشمیر نے سر بسجود ہو کر خدا تعالیٰ کے کلام اُسْـجُدُوْا لِاٰدَمَ کو اس کے ظاہری الفاظ پر پورا کرنا چاہا اور نہایت گریہ و زاری سے اظہار محبت کیا۔مگر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسے اس حرکت سے منع فرمایا اور کہا کہ یہ مشرکانہ باتیں ہیں ان سے پرہیز چاہیے۔مباحثات کو بند فرمانا ایک شخص کی درخواست مباحثہ پر فرمایا کہ حسب اعلامِ الٰہی ہم نے مباحثہ کا دروازہ بند کر دیا ہوا ہے۔لیکن ہاں جس کا جی چاہے ازالہ شبہات کے لیے ہم سے کلام یا تحریر کر سکتا ہے۔بحث میں تو فریقین کو ہار جیت کا خیال ہوتا ہے مگر اس میں یہ خیال نہیں ہوتا۔بحث کے بند کرنے سے ہماری یہ غرض نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص کوئی اعتراض کرے یا سوال کرے یا اسے کچھ وساوس ہوں تو اس کی طرف توجہ ہی نہ کی جاوے بلکہ اس سے مراد یہ تھی کہ جواب اور جواب الجواب اور پھر ہار جیت کا جو خیال لوگوں کو ہوتا ہے اس سے وہ احقاقِ حق سے دور جا پڑتے ہیں۔ورنہ سوالات اور ازالہ وساوس کے لیے دروازہ کھلا ہے جس کا جی چاہے ہم سے پوچھ سکتا ہے۔۱ ۹؍فروری ۱۹۰۵ء ظہر کے وقت تشریف لا کر طاعون کے ذکر پر فرمایا کہ سردی کی شدت میں یہ کم ہو جایا کرتی تھی مگر اب سردی کی شدت کے ساتھ اس کی بھی شدت ترقی کر رہی ہے۔حالانکہ ابھی اس کی مزید ترقی کے ایام آنے والے ہیں۔۲