ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 60 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 60

اب بالکل خالی ہے۔نبوی طریق جو پاک ہونے کا تھا وہ بالکل ترک کر دیا گیا ہے اور اس کو بھلا دیا ہے۔اب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ عہد نبوت پھر آجاوے اور تقویٰ و طہارت پھر قائم ہو۔اور اس کو اس نے اس جماعت کے ذریعہ سے چاہا ہے۔پس فرض ہے کہ حقیقی اصلاح کی طرف تم توجہ کرو اسی طرح پر جس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اصلاح کا طریق بتایا ہے۔حقو ق اللہ اور حقوق العباد شریعت کے دو ہی بڑے حصے اور پہلو ہیں جن کی حفاظت انسان کو ضروری ہے۔ایک حق اللہ، دوسرے حق العباد۔حق اللہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کی اطاعت، عبادت، توحید، ذات اور صفات میں کسی دوسری ہستی کو شریک نہ کرنا۔اور حق العباد یہ ہے کہ اپنے بھائیوں سے تکبر، خیانت اور ظلم کسی نوع کا نہ کیا جاوے۔گویا اخلاقی حصہ میں کسی قسم کا فتور نہ ہو۔سننے میں تو یہ دو ہی فقرے ہیں۔لیکن عمل کرنے میں بہت ہی مشکل ہیں۔اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی فضل انسان پر ہو تو وہ ان دونوں پہلوؤں پر قائم ہو سکتا ہے۔کسی میں قوتِ غضبی بڑھی ہوئی ہوتی ہے جب وہ جوش مارتی ہے تو نہ اس کا دل پاک رہ سکتا ہے اور نہ زبان۔وہ دل سے اپنے بھائی کے خلاف ناپاک منصوبے کرتا ہے اور زبان سے گالی دیتا ہے۔اور پھر کینہ پیدا کرتا ہے۔کسی میں قوتِ شہوت غالب ہوتی ہے اور وہ اس میں گرفتار ہو کر حدود اللہ کو توڑتا ہے۔غرض جب تک انسان کی اخلاقی حالت بالکل درست نہ ہو وہ کامل ایمان جو منعم علیہ گروہ میں داخل کرتا ہے اور جس کے ذریعہ سچی معرفت کا نور پیدا ہوتا ہے داخل نہیں ہوسکتا۔پس دن رات یہی کوشش ہونی چاہیے کہ بعد اس کےجو انسان سچا موحد ہو اپنے اخلاق کو درست کرے۔میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت اخلاقی حالت بہت ہی گری ہوئی ہے۔اکثر لوگوں میں بد ظنی کا مرض بڑھا ہوا ہوتا ہے۔وہ اپنے بھائی سے نیک ظنی نہیں رکھتے اور ادنیٰ ادنیٰ سی بات پر اپنے دوسرے بھائی کی نسبت