ملفوظات (جلد 7) — Page 59
طہارت سب کچھ آسمان سے آتا ہے۔اور یہ خدا تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے وہ چاہے تو اس کو قائم رکھے اور چاہے تو دور کر دے۔پس سچی معرفت اسی کا نام ہے کہ انسان اپنے نفس کو مسلوب اور لا شے محض سمجھے اور آستانہ الوہیت پر گر کر انکسار اور عجز کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فضل کو طلب کرے۔اور اس نور معرفت کو مانگے جو جذبات نفس کو جلا دیتا ہے اور اندر ایک روشنی اور نیکیوں کے لیے قوت اور حرارت پیدا کرتا ہے۔پھر اگر اس کے فضل سے اس کو حصہ مل جاوے اور کسی وقت کسی قسم کا بسط اور شرح صدر حاصل ہو جاوے تو اس پر تکبر اورناز نہ کرے بلکہ اس کی فروتنی اور انکسار میں اور بھی ترقی ہو۔کیونکہ جس قدر وہ اپنے آپ کو لاشے سمجھے گا اسی قدر کیفیات اور انوار خدا تعالیٰ سے اتریں گے جو اس کو روشنی اور قوت پہنچائیں گے۔اگر انسان یہ عقیدہ رکھے گا تو امید ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی اخلاقی حالت عمدہ ہو جائے گی۔دنیا میں اپنے آپ کو کچھ سمجھنا بھی تکبر ہے اور یہی حالت بنا دیتا ہے پھر انسان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ دوسرے پر لعنت کرتا ہے اور اسے حقیر سمجھتا ہے۔جماعت احمدیہ کے قیام کی غرض میں یہ سب باتیں بار بار اس لیے کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے جو اس جماعت کو بناناچاہا ہے تو اس سے یہی غرض رکھی ہے کہ وہ حقیقی معرفت جو دنیا میں گم ہوچکی ہے اور وہ حقیقی تقویٰ و طہارت جو اس زمانہ میں پائی نہیں جاتی اسے دوبارہ قائم کرے۔عام طور پر تکبر کا لفظ دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔علماء اپنے علم کی شیخی اور تکبر میں گرفتار ہیں۔فقراء کو دیکھو تو ان کی بھی حالت اور ہی قسم کی ہو رہی ہے۔ان کو اصلاح نفس سے کوئی کام ہی نہیں رہا۔ان کی غرض و غایت صرف جسم تک محدود ہے۔اس لیے ان کےمجاہدہ اور ریاضتیں بھی کچھ اور ہی قسم کی ہیں جیسے ذکر اَرّہ وغیرہ۔جن کا چشمہ نبوت سے پتہ نہیں چلتا۔میں دیکھتا ہوں کہ دل کو پاک کرنے کی طرف ان کی توجہ ہی نہیں صرف جسم ہی جسم باقی رہا ہوا ہے۔جس میں روحانیت کا کوئی نام و نشان نہیں۔یہ مجاہدے دل کو پاک نہیں کر سکتے اور نہ کوئی حقیقی نور معرفت کا بخش سکتے ہیں۔پس یہ زمانہ