ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 30

بلکہ ایک نبی کے منتظر تھے۔اگر وہ کسی خدا یا خدا کے بیٹے کے منتظر ہوتے تو وہ اس کو مان لیتے۔علاوہ بریں یہودیوں کے عہد نامہ میں جس مسیح کا ذکر ہے وہ نشان دو مسیحوں کی طرف جاتا ہے۔ایک وہ جو مجھ سے پہلے آیا دوسرا میں ہوں جو ساتویں ہزار میں آنے والا تھا۔مسیح کی آمد ثانی کے تم لوگ بھی قائل ہو، لیکن دوسری آمد کو تم نے اسی کی آمد سمجھ لیا ہے۔حالانکہ اس سے مراد کسی اور کا آنا مراد تھا یعنی میرا آنا مراد تھا۔دانیال نبی کی کتاب میں بھی بڑی وضاحت کے ساتھ اس امر کو بیان کیا ہے۔یہ ساتواں ہزار ہے جو آپ کے دعویٰ کو باطل کرتا ہے کہ وہی آنے والا تھا۔اس نے میری تصدیق کی۔چنانچہ بڑے عیسائی فاضلوں نے مسیح کے آنے کا یہی زمانہ قرار دیا ہے اور آخر مایوس ہو کر امریکہ وغیرہ میں ایسے رسائل بھی شائع ہوگئے کہ دوبارہ آنے کا خیال غلط ہے۔آمد ثانی سے مراد صرف کلیسیا ہی ہے۔اگر یہ وقت آنے کا نہ تھا تو ان لوگوں کو کیا مصیبت پیش آئی تھی کہ وہ ایسی تاویلیں کرتے یا انکار کرتے۔حقیقت میں آنے کا زمانہ یہی تھا۔اور آنے والا آگیا مگر تھوڑے ہیں جو اسے دیکھتے ہیں۔اب آپ خواہ قبول کریں یا نہ کریں اور کوئی مسیح تو آنے والا نہیں۔جس کا آپ کو انتظار ہے وہ مر چکا اور میں خدا کے وعدہ کے موافق آگیا۔پادری۔جو دھوکا یہودیوں کو تھا وہی آپ کو ہے کہ ایک مسیح دکھ اٹھائے گا۔دوسرا بزرگی پائے گا۔حضرت اقدسؑ۔در اصل یہودیوں والا دھوکہ تو آپ کو لگا ہوا ہے کہ اگر آپ حضرت مسیح کے اپنے فیصلہ کو یاد رکھتے تو ٹھوکر نہ کھاتے۔یہودیوں کوجو دھوکا لگا تھا وہ یہی تو تھا کہ مسیح کے آنے سے پہلے ایلیا ہی کا آنا مانتے تھے اور اقرار کرتے تھے کہ وہی ایلیا آئے گا۔حالانکہ مسیح نے اس کا فیصلہ یہ کیا کہ آنے والا ایلیا یوحنا کے رنگ میں آیا ہے چاہو تو قبول کرو۔اب اگر دوبارہ آنا صحیح ہوتا تو پھر ایلیا ہی کو آنا چاہیے تھا۔اسی طرح مسیح کی آمد ثانی ہے اس سے مراد وہ آپ ہی کیونکر ہو سکتے ہیں۔اسی واسطے میں کہتا ہوں کہ آپ کو یہودیوں والا دھوکہ لگا ہے۔ورنہ میں تو وہی مسیح ہوں جو آنے والا تھا اور میرا وہی فیصلہ ہے جو ایلیا کے حق میں مسیح نے کیا۔