ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 29

قریب ہیں اور اپنی سبزی اور زندگی میں ترو تازہ ہیں اسی قدر زیادہ وہ اس غذا کو جو جڑ کے ذریعہ درخت حاصل کرتا ہے یہ جذب کرتی ہیں۔اگر کوئی شاخ خشک ہو تو ہر چند وہ درخت کے ساتھ تعلق بھی رکھتی ہو لیکن اس غذا سے کوئی حصہ نہیں پا سکتی۔اسی طرح پر شاگرد اور مرید شاخوں کی طرح ہی ہوتے ہیں۔جس قدر کوئی تعلق محبت اور حسن ایمان رکھتا ہے اور جس قدر زیادہ صحبت میں رہتا ہے اسی کے موافق وہ حصہ پاتے ہیں۔اول فضل خود اس درخت میں بھی ہونا چاہیے۔اگر اس میں ہی کوئی قوت اور روح معرفت کی نہ ہوگی تو وہ دوسروں کو کیا پہنچا سکے گا۔پادری۔کس درخت کی شاخ۔حضرت اقدس۔وہ درخت جس کو خدا لگاتا ہے جو خدا کی طرف سے آتا ہے جیسے میں خدا کی طرف سے آیا ہوں اور خدا نے مجھے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔پادری۔میں آپ کے دعویٰ کا اصل مطلب نہیں سمجھا۔کیا آپ مسیح کہلاتے ہیں؟ حضرت اقدس۔تعجب ہے۔میرا دعویٰ تو عرصہ سے شائع ہو رہا ہے اور ولایت اور امریکہ تک لوگوں کو معلوم ہوگیا ہے۔آپ کہتے ہیں کہ میں مطلب نہیں سمجھا۔ہاں میں مسیح کہلاتا ہوں اور خدا نے مجھے مسیح کہا اور مسیح کر کے بھیجا۔پادری۔وہ تو ایک ہی مسیح ہے۔حضرت اقدسؑ۔اللہ تعالیٰ کی ذات میں بخل نہیں ہے وہ ہزاروں ہزار مسیح بنا سکتا ہے۔چنانچہ ایک میں نمونہ موجود ہوں جو زندہ مسیح ہے۔پادری۔انیس سو برس پیشتر آپ سے ایک مسیح دنیا میں آیا تھا اور وہی مسیح مشہور ہے جس کی طرف یہودیوں کے عہد نامے میں اشارہ ہے کہ مسیح آئے گا اور وہ اس کے منتظر تھے۔اس کے سوا تو کوئی اور مسیح نہیں۔حضرت اقدسؑ۔ہاں انیس سو برس پیشتر ایک مسیح آیا تھا۔مگر جس مسیح کا آپ ذکر کرتے ہیں یا جس کو مانتے ہیں اس کا ذکر یہودیوں کے عہد نامے میں کہیں نہیں ہے، کیونکہ وہ کسی خدا مسیح کے منتظر نہ تھے