ملفوظات (جلد 7) — Page 31
پادری۔وہ ایلیا تو آچکا۔حضرت اقدسؑ۔میں بھی تو یہی کہتا ہوں کہ آچکا مگر تم یہ بتاؤ کہ کیا یوحنا کو ایلیا نہیں بنایا گیا۔اب میرے معاملہ میں آپ کیوں ٹھوکر کھاتے ہیں اور مسیح کے فیصلہ کو حجت نہیں مانتے۔پادری۔آپ معاف کریں میں جاتا ہوں۔حضرت اقدسؑ۔اچھا اس کے بعد پادری صاحب تشریف لے گئے۔۱ وفات ۳؍نومبر ۱۹۰۴ءکو جناب مولوی سید تفضل حسین صاحب پنشنر تحصیلدار اٹاوہ کے اس جہان فانی سے انتقال کرجانے کی خبر مولوی عبد المجید صاحب احمدی نے اٹاوہ سے ارسال کی ہے۔ماہ فروری ۱۹۰۴ء میں تحصیلدار صاحب قادیاں میں تشریف لائے۔آپ کا ارادہ صرف چند دن قیام کا تھا۔لیکن حضرت اقدس نے اصرار فرما کر کچھ زیادہ دن رہنے کی تاکید کی تھی اور اسی اصرار میں آپؑنے ان کو فرمایا کہ ضروری نصیحت یہ ہے کہ ملاقات کا زمانہ بہت تھوڑا ہے خدا معلوم بعد جدائی کے دوبارہ ملنے کا اتفاق ہو یا نہ ہو۔یہ دنیا ایسی جگہ ہے کہ دم بھر کا بھروسہ نہیں۔ان الفاظ کو اسی وقت سن کر میرے دل میں یہ بات گذری کہ سید صاحب دوبارہ قادیاں آنے سے پیشتر واصل الی اللہ ہو جاویں گے۔اور ذہن کے اس طرف انتقال کی وجہ یہ تھی کہ میں نے بارہا تجربہ کیا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ جب ایسے الفاظ میں کسی کو کچھ فرماتے ہیں تو وہ اس کا آخری وقت ہی ہوتا ہے۔مبارک وہ لوگ جو زندگی کے ایام کو اپنے آقا اور امام کی اطاعت یعنی خدمت دین میں گذار کر اپنے رب کو راضی کرتے ہیں۔سید صاحب کی تشریف آوری اور آپ کے چند روز قیام پر حضرت اقدس علیہ السلام نے یہ قابل رشک فقرات اہل پنجاب کے حق میں فرمائے تھے۔’’پنجاب کے لوگ بار بار ہمارے پاس آنے کی وجہ سے صدق و صفا میں ترقی کر رہے ہیں اور