ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 27

پرستش کرتے اور اس کی توحید کا وعظ اور تبلیغ کرتے تھے اور دوسرے تمام نبی بھی یہی تعلیم لے کر آتے تھے۔پادری سکاٹ۔آپ لوگوں میں تو بہت سے فرقے موجود ہیں؟ حضرت اقدسؑ۔مجھے تعجب ہے کہ آپ اسلام پر یہ اعتراض کرتے ہیں۔کیا آپ کو معلوم نہیں کہ عیسائیوں میں کس قدر فرقے ہیں جو ایک دوسرے کی تکفیر کرتے ہیں اور اصولوں میں بھی متفق نہیں۔مسلمانوں کے فرقوں میں اگر کوئی اختلاف ہے تو فروعات اور جزئیات میں ہے۔اصول سب کے ایک ہی ہیں۔پادری سکاٹ۔ان عیسائی فرقوں میں سے آپ کس کو حق پر سمجھتے ہیں؟ حضرت اقدس۔میرے نزدیک تو راستباز وہی فرقہ تھا جو حضرت مسیحؑاور ان کے حواریوں کا تھا۔اس کے بعد تو اس مذہب کی مرمت شروع ہوگئی اور کچھ ایسی تبدیلی شروع ہوئی کہ حضرت مسیحؑکے وقت کی عیسویت اور موجودہ عیسویت میں کوئی تعلق ہی نہیں رہا۔پادری۔اس کی خبر آپ کو کہاں سے ملی؟ حضرت اقدس۔پیغمبروں کو خدا تعالیٰ ہی سے خبریں ملا کرتی ہیں۔میں بھی خدا ہی سے خبریں پاتا ہوں اور اسی پر ایمان لاتا ہوں۔پادری۔اس میں شک نہیں کہ پیغمبروں کو خدا سے ہی خبر ملتی ہے۔اس مقام تک جب پہنچے تو پادری صاحب کی نظر ایڈیٹر الحکم پر پڑی جو اس گفتگو کو قلمبند کر رہا تھا۔پادری صاحب اسے دیکھ کر گھبرائے اور بولے یہ کون نوٹ کر رہا ہے۔جب ان کو یہ کہا گیا کہ یہ الحکم اخبار کا ایڈیٹر ہے جو اس سفر میں حضرت کے ساتھ ہے اور حالات سفر قلمبند کر کے شائع کرے گا تو پادری صاحب بولے میں اب جاتا ہوں یہ تو شائع کر دیں گے۔انہیں کہا گیا کہ کیا حرج ہے دوسرے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔مگر ہم سچ کہتے ہیں اور اس وقت جو لوگ موجود تھے وہ پادری صاحب کی گھبراہٹ کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ہر چند وہ چاہتے تھے کہ کسی طرح اس سلسلہ کلام کو یہاں چھوڑ دیں مگر حاضرین نے انہیں سلسلہ کلام جاری رکھنے پر اصرار کیا اور کہا کہ اگر آپ کو نہیں تو ہم لوگوں کو فائدہ پہنچ جاوے گا۔اس اصرار