ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 28

پر انہوں نے سلسلہ کلام جاری رکھا اور پھر بولے تو یہ بولے پادری۔تمہارے بہت سے چیلے ہیں یہ حملہ نہ کر دیں۔حضرت اقدس۔بڑے افسوس کی بات ہے کہ آپ خواہ نخواہ ایک قوم پر جس کو نیک چلنی، انکسار اور تواضع کی تعلیم دی جاتی ہے حملہ کرتے ہیں۔ایسی حالت میں کہ میں ان میں موجود ہوں اور آپ دیکھتے ہیں کہ کوئی ان میں سے بولتا بھی نہیں آپ یہ امید کر سکتے ہیں۔آپ جس طرح چاہیں جو چاہیں مجھ سے پوچھیں ان میں سے کوئی تمہیں مخاطب بھی نہیں کرے گا۔ان کو یہ تعلیم نہیں دی جاتی۔علاوہ بریں چیلے کا لفظ ٹھیک نہیں ہے گو اس لفظ کے معنے اور مفہوم بُرا نہ ہو۔لیکن ہر ایک قوم کو اسی لفظ اور نام سے پکارنا چاہیے جو وہ اپنے لیے پسند کرتی ہے۔یہ لفظ چیلے کا ہندوؤں کے ساتھ مختص ہے۔پادری۔میں نے سنا ہے سیالکوٹ میں بڑی رونق تھی۔حضرت اقدس۔ہاں بہت بڑا مجمع تھا۔پادری۔آپ لوگوں کو صرف ہدایت دیتے ہیں یا فضل بھی؟ حضرت اقدس۔میری ہدایت کچھ چیز نہیں جب تک اس کے ساتھ فضل نہ ہو۔کوئی آدمی کبھی ہدایت نہیں پا سکتا جب تک آسمانی فضل ہی اس کی دستگیری نہیں کرتا ہے۔وہ میری شناخت اسے عطا کرتا ہے تب وہ میرے پاس آتا ہے اور وہ ہدایت اور معرفت لیتا ہے جو مجھے خدا نے دی ہے اور پھر اپنے فضل سے دی ہے۔پادری۔میں اس فضل کا ذکر نہیں کرتا جو آپ کو ملتا ہے بلکہ میں اس فضل کا ذکر کرتا ہوں جو ان کو ملتا ہے۔حضرت اقدس۔میں بھی تو اس فضل کا ذکر کرتا ہوں جو ان کو ملتا ہے۔ان کو پہلے تو وہ فضل ہی ہے جو میرے پاس لاتا ہے۔پھر جو فضل مجھے دیا جاتا ہے وہی فضل میری صحبت اور تعلق کی وجہ سے ان میں سرایت کرتا ہے۔جس قدر اعتقاد بڑھے گا اسی قدر یہ لوگ اور ہر ایک مخلص ارادتمند اس فضل کو جذب کرے گا۔ان لوگوں کا تعلق میرے ساتھ درخت کی شاخوں کی طرح ہے۔جس جس قدر وہ شاخیں