ملفوظات (جلد 7) — Page 26
ہوگئے؟ اسی طرح پر یہ سچ ہے کہ اس سلسلہ میں سے بھی بعض لوگ طاعون سے شہید ہوئے ہیں مگر یہ بھی تو دیکھو کہ طاعون کے ذریعہ سے ہمارا نقصان ہوا ہے یا دوسروں کا؟ ہماری جماعت کی تو ترقی ہوتی گئی ہے اور ہو رہی ہے اور میں پھر کہتا ہوں کہ جو لوگ نافع الناس ہیں اور ایمان، صدق و وفا میں کامل ہیں وہ یقیناً بچا لیے جاویں گے۔پس تم اپنے اندر یہ خوبیاں پیدا کرو۔اپنے رشتہ داروں اور بیوی بچوں کو بھی سمجھاؤ اور یہی تلقین کرو اور دوستوں کے ساتھ یہی شرط دوستی رکھو کہ وہ بدی سے بچیں۔پھر میں یہ بھی کہتا ہوں کہ سختی نہ کرو اور نرمی سے پیش آؤ۔جنگ کرنا اس سلسلہ کے خلاف ہے۔نرمی سے کام لو اور اس سلسلہ کی سچائی کو اپنی پاک باطنی اور نیک چلنی سے ثابت کرو۔یہ میری نصیحت ہے اس کو یاد رکھو۔اللہ تعالیٰ تمہیں استقامت بخشے۔آمین۔۱ ۳؍نومبر ۱۹۰۴ء (سیالکوٹ سے واپسی پر بمقام وزیر آباد ریلوے اسٹیشن) ایک پادری سے گفتگو وزیر آباد سٹیشن پر وہی ہجوم اور کثرت زائرین تھی جو پہلے تھی۔حافظ غلام رسول صاحب نے پھر لیمونیڈ اور سوڈا واٹر کی دعوت اپنے بھائیوں کو دی۔اس مرتبہ اس سٹیشن پر ایک عجیب بات جو پیش آئی وہ یہ تھی کہ ڈسکہ کا مشنری پادری سکاٹ صاحب حضرت اقدس سے آکر ملا۔پادری سکاٹ صاحب کے ساتھ ہمارے مکرم بھائی شیخ عبد الحق صاحب نو مسلم کے بھی عیسائیت کے ایام میں دوستانہ تعلقات تھے۔پادری صاحب نے حضرت اقدس کے پاس آکر پہلے سلسلہ کلام شیخ عبد الحق ہی سے شروع کیا کہ آپ نے ہمارا ایک لڑکا لے لیا۔اس قسم کی باتیں ہو رہی تھیں۔جبکہ ہم نے پہنچ کر اس گفتگو کو قلمبند کرنا شروع کیا۔پادری سکاٹ۔آپ میں اور عیسوی مذہب میں کیا اختلاف ہے؟ حضرت اقدسؑ۔موجودہ عیسوی مذہب اور ہم میں تو زمین و آسمان کا فرق ہے۔البتہ حضرت مسیح علیہ السلام کی اصل تعلیم اور مذہب اور ہمارے مذہب کے اصولوں میں اختلاف نہیں ہے۔وہ بھی خدا کی