ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 25 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 25

جو سچے ہیں اور کوئی ان کو جھٹلا نہیں سکتا۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سچے اور فرمانبردار بندے ایسی بلاؤں سے محفوظ رہتے ہیں۔پس اس بات کو کبھی بھولنا نہیں چاہیے کہ نری بیعت اور اقرار سے کچھ نہیں بنتا، بلکہ انسان زیادہ ذمہ دار اور جوابدہ ہوجاتا ہے۔اصل فائدہ کے لیے ضرورت ہے حقیقی ایمان اور پھر اس ایمان کے موافق اعمال صالحہ کی۔جب انسان یہ خوبی اپنے اندر پیدا کرتا ہے تو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ متقی حقیقی مومن اور اس کے غیر میں ایک امتیاز رکھ دیا جاتا ہے۔اسے ممتاز کیا جاتا ہے اور اس امتیاز کا نام قرآن شریف کی اصطلاح میں فرقان ہے۔آخرت میں بھی مومن اسی فرقان سے شناخت کئے جائیں گے اور کافر، فاسق، فاجر کے منہ سیاہ ہوجائیں گے۔اس دنیا میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ مومن ہمیشہ ممتاز رہتا ہے۔اس کے اندر ایک سکینت اور اطمینان بخش روح ہوتی ہے۔اگرچہ مومن کو دکھ بھی اٹھانے پڑتے ہیں اور قسم قسم کی مصائب اور شدائد کے اندر سے گذرنا پڑتا ہے خواہ لوگ اس کے کتنے ہی بُرے نام رکھیں اور خواہ اس کے تباہ اور برباد کرنے کے لیے کچھ بھی ارادے کریں۔لیکن آخر وہ بچا لیا جاتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے اور اسے عزیز رکھتا ہے۔اس لیے دنیا اس کو ہلاک نہیں کر سکتی۔مومن اور اس کے غیر میں امتیاز ضرور ہوتا ہے اور یہ میزان خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔خدا کی آنکھیں خوب دیکھتی ہیں کہ کون بد اور شریر ہے۔خدا کو کوئی دھوکا نہیں دے سکتا۔پس تم دنیا کی پروا نہ کرو بلکہ اپنے اندر کو صاف کرو۔یہ دھوکا مت کھاؤ کہ ظاہری رسم ہی کافی ہے۔نہیں امن اس وقت آتا ہے جب انسان سچے طور سے خدا تعالیٰ کے حرم میں داخل ہو۔پس اب بڑی تبدیلی کا وقت ہے اور خدا تعالیٰ سے سچی صلح کے دن ہیں۔بعض لوگ اپنی غلط فہمی اور شرارت سے اس سلسلہ کو بدنام کرنے کے لیے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس سلسلہ میں سے بھی بعض آدمی طاعون سے ہلاک ہوئے ہیں۔میں نے بارہا اس اعتراض کا جواب دیا ہے کہ یہ سلسلہ منہاجِ نبوت پر واقع ہوا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کفار پر جو عذاب آیا تھا وہ تلوار کا عذاب تھا۔حالانکہ وہ ان کے لیے مخصوص تھا۔لیکن کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ صحابہؓ میں سے بعض شہید نہیں