ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 24 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 24

کہ کون اس کے حملہ سے بچے۔ہاں اس قدر میں کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان لوگوں کو اپنے فضل و کرم سے محفوظ رکھتا ہے جو اپنے اندر سچی تبدیلی کر لیتے ہیں اور کسی قسم کا کھوٹ اور کجی دل میں باقی نہیں رکھتے۔بسا اوقات کہ جن شہروں میں طاعون پڑی ہے ان کا پیچھا نہیں چھوڑتی جب تک انہیں تباہ نہیں کرلیتی۔اور یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ اس کے دورے بڑے بڑے لمبے ہوتے ہیں۔مجھ پر خدا تعالیٰ نے ایسا ہی ظاہر کیا ہے اور خدا تعالیٰ کی کتابوں سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہ شامتِ اعمال سے آتی ہے۔میں اس وقت دیکھتا ہوں کہ دنیا میں غفلت حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔شوخی اور بے باکی خدا تعالیٰ کی کتابوں اور باتوں سے بہت ہوگئی ہے۔دنیا ہی دنیا لوگوں کا مقصود اور معبود ٹھہر گئی ہے۔اس لیے جیسا کہ پہلے سے کہا گیا تھا اور نبیوں کی معرفت وعدہ دیا گیا تھا میرے اس زمانہ میں یہ طاعون لوگوں کو متنبہ کرنے کے لیے آئی ہے۔مگر افسوس ہے لوگ اس کو اب تک بھی ایک معمولی بیماری سمجھتے ہیں۔مگر میں تمہیں کہتا ہوں کہ تم ان لوگوں کے ساتھ مت ملو بلکہ تم اپنے اعمال اور افعال سے ثابت کر کے دکھا دو کہ واقعی تم نے سچی تبدیلی کر لی ہے۔تمہاری مجلسوں میں وہی ہنسی اور ٹھٹھا نہیں جو دوسرے لوگوں کی مجلسوں اور محفلوں میں پایا جاتا ہے۔یقیناً سمجھو کہ زمین و آسمان کا خالق ایک خدا ہے۔وہی خدا ہے جس کے قبضہ قدرت میں زندگی اور موت ہے۔کوئی شخص دنیا میں کسی قسم کی راحت اور کوئی نعمت حاصل نہیں کر سکتا مگر اسی کے فضل اور کرم سے۔ایک پتہ بھی اس کے فضل بغیر ہرا نہیں رہ سکتا۔اس لیے ہر وقت اسی سے سچا تعلق پیدا کرے اور اس کی رضا جوئی کی راہوں پر مضبوط قدم رکھے۔اگر وہ اس بات کی پابندی کرے گا تو یقیناً اسے کوئی غم نہیں ہے۔ہر قسم کی راحت، صحت، عمر و دولت یہ سب اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں ہے۔جب انسان کا وجود ایسا نافع اور سود مند ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو ضائع نہیں کرتا۔جیسے باغ میں کوئی درخت عمدہ پھل دینے والا ہو تو اسے باغبان کاٹ نہیں ڈالتا بلکہ اس کی حفاظت کرتا ہے۔اسی طرح نافع اور مفید وجود کو اللہ تعالیٰ بھی محفوظ رکھتا ہے جیسا کہ اس نے فرمایا ہے وَ اَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ(الرّعد:۱۸) جو لوگ دنیا کے لیے نفع رساں لوگ بنتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی عمریں بڑھا دیتا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں