ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 309 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 309

رسول بھیجا گیا ہے جس طرح فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا گیا تھا (یعنی موسیٰ کی طرح)۔اب غور کرو کہ اس میں كَمَا کا لفظ صاف طور پر ظاہر کرتا ہے کہ اس سلسلہ میں بھی کمالات و برکات کی کمی نہ ہوگی۔پھر سورہ نور میں آیت استخلاف میں بھی یہی کَمَا کا لفظ آیا۔وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الآیۃ(النور:۵۶) اسی امت کے اب مومنین اور اعمال صالحہ بجالانے والوں سے خلافت کا وعدہ کیا گیا اسی طرح پر جس طرح بنی اسرائیل میں خلفاء کئے گئے تھے۔یہاں بھی وہی كَمَا کا لفظ موجود ہے۔ایک طرف تو اس سلسلہ کو سلسلہ موسوی کا مثیل ٹھیرایا۔دوسری جگہ سلسلہ موسوی کی طرح خلفاء بنانے کا وعدہ کیا۔پھر کیا دونوں سلسلوں کا طبعی توافق ظاہر نہیں کرتا کہ اس امت میں خلفاء اسی رنگ کے قائم ہوں؟ ضرور کرتا ہے۔اور اس میں تو کوئی کلام ہی نہیں کہ سلسلہ موسوی میں تیرھواں خلیفہ مسیح تھا۔پھر کیا وجہ ہے کہ سلسلہ محمدیہ میں تیرھواں خلیفہ مسیح نہ کہلائے؟ اس لیے ضرور تھا کہ آنے والے کا نام مسیح رکھا جاتا۔یہی سِر ہے جو خدا تعالیٰ نے اس امت میں بھی ایک مسیح کا وعدہ کیا۔بعض نادان اعتراض کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام تو مثیلِ موسیٰ رکھا ہے مگر آخر میں آنے والے خلیفہ کا نام عیسیٰ رکھا ہے مثیل عیسیٰ نہیں رکھا اس لیے وہ آپ ہی آجائے گا۔اس قسم کے اعتراض بظاہر دھوکہ دہ ہیں اور ممکن ہے کہ وہ آدمی جو اصل حالات سے واقف نہیں اس کو سن کر گھبرا جاوے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام تو مثیل موسیٰ ہی ہونا چاہیے تھا۔اس لیے کہ توریت کی کتاب استثناء میں مثیل موسیٰ ہی کہا گیا تھا۔پس اگر آپ موسیٰ ہونے کا دعویٰ کرتے تو کتاب والے کہتے کہ ہمیں تو مثیل موسیٰ کا وعدہ دیا گیا ہے نہ کہ موسیٰ کا۔اس لیے ان کو توجہ دلانے کے واسطے وہی لفظ رکھا جو وہاں موجود تھا مگر یہاں اس کے خلاف بات تھی۔پہلی کتابوں میں اور انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ آئے گا۔مگر جب یہ ثابت ہوچکا کہ وہ وفات پاچکے ہیں اور آچکے ہیں تو کوئی خیال بھی نہیں کرے گا کہ وہ زندہ ہو کر آجائیں گے۔