ملفوظات (جلد 7) — Page 284
قامت آدمی ہے معمولی سا لباس ہے چہرہ پر کچھ وجاہت نہیں۔معمولی آدمیوں کی طرح بازار میں کھڑا ہے اس سے اس کا سارا اعتقاد جاتا رہا اور کہا کہ یہ تو ہماری طرح ایک معمولی آدمی ہے۔ذوالنون نے اس کو کہا کہ تو کس لیے میرے پاس آیا ہے جبکہ تیرا ظاہر پر خیال ہے۔ذوالنون نے اس کے مافی الضمیر کو دیکھ لیا اس لیے کہا کہ تیری نظر ظاہر پر ہے تجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ایمان تب سلامت رہتا ہے کہ باطن پر نظر رکھی جاوے۔کہتے ہیں لقمان بھی سیاہ منظر تھے۔یہی وجہ ہے جو لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں اور برگزیدوں کے پاس ارادت سے جانا سہل ہے لیکن ارادت سے واپس آنا مشکل ہے کیونکہ ان میں بشریت ہوتی ہے۔اور ان کے پاس جانے والے لوگوں میں سے اکثر ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے دل میں اس کی ایک فرضی اور خیالی تصویر بنا لیتے ہیں۔لیکن جب اس کے پاس جاتے ہیں تو وہ اس کے برخلاف پاتےہیں جس سے بعض اوقات وہ ٹھوکر کھاتے ہیں اور ان کے اخلاص اور ارادت میں فرق آجاتا ہے۔اسی لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کھول کر بیان کر دیا کہ قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ( حٰمٓ السجدۃ:۷) یعنی کہہ دو کہ بیشک میں تمہارے جیسا ایک انسان ہوں۔یہ اس لیے کہ وہ لوگ اعتراض کرتے تھے وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ يَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ( الفرقان : ۸) اور انہوں نے کہا کہ یہ کیسا رسول ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں بھی چلتا پھرتا ہے۔ان کو آخر یہی جواب دیا گیا کہ یہ بھی ایک بشر ہے اور بشری حوائج اس کے ساتھ ہیں۔اس سے پہلے جس قدر نبی اور رسول آئے وہ بھی بشر ہی تھے۔یہ بات انہوں نے بنظر استخفاف کہی تھی۔وہ جانتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی بازاروں میں عموماً سودا سلف خریدا کرتے تھے۔ان کے دلوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو نقشہ تھا وہ تو نری بشریت تھی۔جس میں کھانا، پینا، سونا، چلنا، پھرنا وغیرہ تمام امور اور لوازم بشریت کے موجود تھے۔اس واسطے ان لوگوں نے ردّ کر دیا۔یہ مشکل اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ لوگ اپنے دل سے ہی ایک خیالی تصویر بنا لیتے ہیں کہ نبی ایسا ہونا چاہیے اور چونکہ اس تصویر کے موافق وہ اسے نہیں پاتے اس لحاظ سے ٹھوکر کھاتے ہیں۔یہ مرض یہاں تک ترقی کر گیا ہے کہ بعض شیعوں کا