ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 285 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 285

بعض ائمہ کی نسبت خیال ہے کہ وہ منہ کے راستہ پیدا ہوئے تھے۔لیکن یہ باتیں ایسی ہیں کہ ایک عقلمند ان کو کبھی قبول نہیں کر سکتا بلکہ ہنسی کرتا ہے۔اصل یہ ہے کہ جو شخص گذر جاوے اس کی نسبت جو چاہو تجویز کر لو کہ وہ آسمان سے اترا تھا یا منہ کے راستہ پیدا ہوا تھا۔لیکن جو موجود ہیں ان میں بشری کمزوریاں موجود ہیں۔وہ روتا بھی ہے کھاتا بھی ہے اور پیتا بھی ہے۔غرض ہر قسم کی بشری ضرورتوں اور کمزوریوں کو اپنے اندر رکھتا ہے۔اس کو دیکھ کر ان لوگوں کو جو انبیاء و رسل کی حقیقت سے ناواقف ہوتے ہیں گھبراہٹ پیدا ہوتی ہے۔یہی وجہ تھی جو اللہ تعالیٰ کو ان کے اس قسم کے اعتراضوں کا ردّ کرنا پڑا اور قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰۤى اِلَيَّ ( حٰمٓ السجدۃ:۷) کہنا پڑا۔یعنی مجھ میں بشریت کے سوا جو امر تمہارے اور میرے درمیان خارق اور مابہ الامتیاز ہے وہ یہ ہے کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی وحی آتی ہے۔دوسری جگہ قرآن شریف میں یہ اعتراض بھی منقول ہوا ہے کہ یہ تو بیویاں کرتا ہے۔اس کے جواب میں بھی اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ کوئی نبی اور رسول ایسا نہیں جو بیوی نہ رکھتا ہو۔غرض ایسی باتوں سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔خانہ کعبہ کی تجلیات اور انوار و برکات ظاہری آنکھ سے نظر نہیں آتے اسی طرح پر بعض لوگ حج کو جاتے ہیں۔اس وقت ان کے دل میں بڑا جوش اور اخلاص ہوتا ہے۔لیکن جس جوش اور تپاک سے جاتے ہیں اکثر دیکھا گیا ہے کہ وہی جوش اور اخلاص لے کر واپس نہیں آتے ہیں بلکہ واپس آنے پر بسا اوقات پہلے سے بھی گئے گذرے ہو جاتے ہیں۔؎ سہل است رفتن بارادت مشکل است آمدن بارادت واپس آکر ان کے اخلاق میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں ہوتی بلکہ وہ تبدیلی کچھ الٹی تبدیلی ہوجاتی ہے۔وہ جانے سے پہلے سمجھتے ہیں کہ خانہ کعبہ میں ایک عظیم الشان تجلی نور کی ہوگی اور وہاں سے انوار و برکات نکلتے ہوں گے اور وہاں فرشتوں کی آبادی ہوگی لیکن جب وہاں جاتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ خانہ کعبہ جس کی تصویر انہوں نے اپنے خیال اور ذہن سے کچھ اور ہی قسم کی تجویز کی تھی وہ محض