ملفوظات (جلد 7) — Page 283
کے ساتھ نہ آتا رہے کم فائدہ ہوتا ہے اور یہ بڑی خامی اور بے قدری ہوتی ہے اور سلسلہ کی بد نامی کا موجب ہوتا ہے۔جب ایک شخص سلسلہ میں داخل ہوتا ہے اور وہ توجہ کے ساتھ ان مسائل پر جو ہم پیش کرتے ہیں نظر نہیں کرتا اور پھر اگر اس سے کوئی سوال کرتا ہے تو اسے چپ ہونا پڑتا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ ہماری کتابوں کو غور سے پڑھیں اور فکر کریں اور یہاں رہیں اور ان ایام کی قدر کریں۔جو لوگ اس سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں اور ایمان لاتے ہیں وہ سمجھ سکتے ہیں کہ کیا یہ دن وہ نہیں ہیں جن کے لیے بہت سے سعید لوگ حسرت کرتے چلے گئے ہیں اور یہ امور کتابوں میں درج ہیں کہ کس طرح پر ہزاروں روحیں اس آرزو میں اس دنیا سے رخصت ہوئیں کہ وہ مسیح موعود کے زمانہ کو پالیتیں مگر اس زمانہ کے لوگ جس طرح پر ان ایام کی قدر نہیں کرتے اور مخالفت سے پیش آتے ہیں کیا تعجب اگر وہ یہ زمانہ پاتے تو وہ سیر ہوجاتے۔اسی طرح پر آجکل لوگ کہا کرتے ہیں کہ اگر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوتے تو ہم اس طرح خدمت کرتے اور یہ اخلاص دکھاتے اور یہ کرتے اور وہ کرتے۔لیکن سچ یہی ہے کہ اگر یہ لوگ اس وقت ہوتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی وہی سلوک کرتے جو آجکل ہمارے ساتھ کر رہے ہیں۔زمانہ کی معاصرت بھی ایک روک ہے اس سے لوگوں کے دل تنگ ہوجاتےہیں۔یہ بھی ایک رنگ کا ابتلا ہے۔ایمان کی سلامتی کے لیے باطن پر نظر رکھنی ضروری ہے ذوالنون مصری ایک باکمال شخص تھا اور اس کی شہرت باہر دور دور پہنچی ہوئی تھی۔ایک شخص اس کے کمال کو سن کر اس سے ملنے کے واسطے گیا اور گھر پر جاکر اسے پکارا تو اس کو جواب ملا کہ خدا جانے کہاں ہے۔کہیں بازار میں ہوگا۔وہ جب بازار میں ان کی تلاش کرتا ہوا پہنچا تو وہ بازار میں معمولی طور پر سادگی سے کچھ سودا خرید رہا تھا۔لوگوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ذو النون ہے۔اس نے دیکھا کہ ایک سیاہ رنگ پست