ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 263 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 263

صریح غلط اور بے ہودہ امر ہے۔اللہ تعالیٰ تو صاف فرماتا ہے لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ(الانعام:۱۰۴) وجودیوں کا یہ مذہب ہے کہ ہم ہی لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ پڑھتے ہیں اور ہم ہی سچے موحد ہیں باقی سب مشرک ہیں۔اس کا نتیجہ عوام میں یہ ہوا کہ اباحت پھیل گئی اور فسق و فجور میں ترقی ہوگئی کیونکہ وہ اسے حرام نہیں سمجھتے اور نماز روزہ اور دوسرے اوامر کو ضروری نہیں سمجھتے۔اس سے اسلام پر بہت بڑی آفت آئی ہے۔میرے نزدیک وجودیوں اور دہریوں میں ۱۹ اور ۲۰ کا فرق ہے۔یہ وجودی سخت قابل نفرت اور قابل کراہت ہیں۔افسوس کا مقام ہے کہ جس قدر گدیاں ہیں ان میں سے شاید ایک بھی ایسی نہیں ہوگی جو یہ مذہب نہ رکھتی ہو۔سب سے زیادہ افسوس یہ ہے کہ سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا فرقہ جو قادری کہلاتا ہے وہ بھی وجودی ہوگئے ہیں۔حالانکہ سید عبدالقادر وجودی نہ تھے۔ان کا طرز عمل اور ان کی تصنیفات اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ (الفاتـحۃ:۶) کی عملی تصدیق دکھاتی ہیں۔علماء صرف یہ سمجھتے ہیں کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صرف پڑھنے کے لیے ہے لیکن اس کے اثرات اور نتائج کچھ نہیں۔مگر وہ عملی طور پر دکھاتے ہیں کہ ان منعم علیہ لوگوں کے نمونے اس امت میں ہوتے ہیں۔غرض یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ گو ایسے لوگ تھوڑے ہوتے ہیں۔لیکن ہیں ضرور جو خدا تعالیٰ سے کامل محبت کرتے ہیں اور اسی دنیا میں رہ کر انقطاع اور سفر آخرت کی طیاری کرتے ہیں۔یہ امور ایسے ہی لوگوں کے حصے میں آئے ہیں جیسے سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ۔مگر اب برخلاف ان کے وجودیوں کی کثرت ہے اور اسی وجہ سے فسق و فجور میں ترقی ہے۔اس دنیا میں معرفت اور بصیرت حاصل کرنے کا نسخہ قرآن شریف کی تعلیم کا خلاصہ مغز کے طور پر یہی بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت اس قدر استیلاء کرے کہ ماسوی اللہ جل جاوے۔یہی وہ عمل ہے جس سے گناہ جلتے ہیں اور یہی وہ نسخہ ہے جو اسی عالم میں انسان کو وہ حواس اور بصیرت عطا کرتا ہے جس