ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 264 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 264

سے وہ اُس عالم کی برکات اور فیوض کو اِس عالم میں پاتا ہے اور معرفت اور بصیرت کے ساتھ یہاں سے رخصت ہوتا ہے۔ایسے ہی لوگ ہیں جو اس زمرہ سے الگ ہیں مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى ( بنی اسـرآءیل :۷۳) اور ایسے ہی لوگوں کے لیے فرمایا ہے وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ(الرّحـمٰن:۴۷) یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرتے ہیں ان کو دو جنت ملتے ہیں۔ہمارے نزدیک اس کی حقیقت یہ ہے کہ ایک جنت تو وہ ہے جو مرنے کے بعد ملتی ہے۔دوسری جنت اسی دنیا میں عطا ہوتی ہے اور یہی جنت اس دوسری جنت کے ملنے اور عطا ہونے پر بطور گواہ واقعہ ٹھیر جاتی ہے۔ایسا مومن دنیا میں بہت سے دوزخوں سے رہائی پاتا ہے۔مختلف قسم کی بد اخلاقیاں یہ بھی دوزخ ہی ہیں۔جن چیزوں سے شدید تعلق ہو جاتا ہے وہ بھی ایک قسم کا دوزخ ہی ہے کیونکہ پھر ان کو چھوڑنے سے تکلیف ہوتی ہے۔مثلاً مال سے محبت ہو اور اسے چور لے جائیں تو اسے سخت تکلیف ہوتی ہے۔یہاں تک کہ بعض اوقات ایسے لوگ مر ہی جاتے ہیں یا ان کی زبان بند ہوجاتی ہے۔اسی طرح پر اَور جن فانی اشیاء سے محبت ہے وہ اگر تلف ہو جائیں یا مر جاویں تو اس کو سخت رنج اور صدمہ ہوتا ہے۔مثنوی میں ایک حکایت لکھی ہے کہ ایک شخص کا ایک دوست مر گیا جس کے غم میں وہ رو رہا تھا۔اس سے پوچھا گیا کہ تو کیوں روتا ہے تو اس نے کہا کہ میرا ایک نہایت ہی عزیز دوست مر گیا۔اس نے کہا کہ تو نے مرنے والے سے دوستی ہی کیوں کی؟ اصل بات یہ ہے کہ مفارقت تو ضروری ہے اور جدائی ضروری ہوگی۔یا یہ خود جائے گا یا وہ جس سے دوستی اورمحبت کی ہے۔پس وہ مفارقت عذاب کا موجب ہوجائے گی۔لیکن جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے سے ڈرتے ہیں اور ان فانی اشیاء کے دلدادہ اور گرویدہ نہیں ہوتے وہ اس عذاب سے بچا لیے جاتے ہیں۔کسی نے کیا اچھا کہا ہے۔؎ دشتِ دنیا جزو دو جز دام نیست جز بخلوت گاہِ حق آرام نیست