ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 262 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 262

نہیں۔اگر فراست صحیحہ ہو تو انسان ان باتوں کو سمجھ لیتا ہے۔سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب فتوح الغیب بڑی ہی عمدہ کتاب ہے۔میں نے اس کو کئی مرتبہ پڑھا ہے۔بدعات سے پاک ہے۔بعض کتابیں صوفیوں کی اس قسم کی بھی ہیں کہ ان میں بدعات بھی داخل ہوگئی ہیں لیکن یہ کتاب بہت ہی عمدہ ہے۔وحدتِ وجودی کا فتنہ فقیروں میں بھی ایک آفت آ پڑی ہے۔یعنی بعض فقیر تو ہوئے مگر وحدت وجودی ہوگئے اور خود ہی خدا بن بیٹھے۔ہمارے ملک میں دوآبہ (بست جالندھر) میں اکثر وجودی ہیں۔اور جو وجودی کہلاتے ہیں ان کا مذہب عموماً اباحتی دیکھا گیا ہے۔اور حقیقت میں اس مذہب کا خاصہ اور اثر ہونا بھی یہی چاہیے کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو ان صفات سے متصف نہیں مانتا جو قرآن شریف میں بیان ہوئی ہیں اور اپنے اور خدا تعالیٰ میں کوئی فرق نہیں کرتا بلکہ خود ہی خدا بنتا ہے وہ اگر اباحتی نہ ہو تو اور کیا ہو؟ زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ دوزخ اور بہشت پر ایمان بھی لاتے ہیں اور ایمان لاکر بھی سمجھتے ہیں کہ ہم ہی خدا ہیں۔اور ایک اور بڑی غلطی ہے جس میں یہ لوگ مبتلا ہیں اور وہ یہ ہے کہ اپنے مذہب کو اکابر سے منسوب کرتے ہیں۔وحدتِ شہودی اصل یہ ہے کہ مذہب دو ہیں۔وجودی اور شہودی۔وجودیوں نے فلسفیوں کی طرح یہ سمجھ لیا ہے کہ انسان کے سوا خدا کچھ نہیں ہے یا خدا کے سوا اور کچھ نہیں۔مگر شہودی ان کے سوا ہیں اور وہ ٹھیک ہیں۔جنہوں نے استیلاءِ محبت اور تجلیاتِ صفاتِ الٰہی سے ایسا معلوم کیاکہ خدا ہے۔انہوں نے اس کی ہستی اور وجود کے سامنے اپنی ہستی اور وجود کی نفی کر لی۔اور من تو شدم تو من شدی کے مصداق ہوئے۔حقیقت میں محبت کے ثمرات میں سے نفی وجود ضروری ہے۔اس پر اعتراض نہیں ہوسکتا۔بلکہ قرآن شریف سے یہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جو فنا فی اللہ کہلاتا ہے۔لیکن وجودیوں کا یہ حال نہیں۔ان کا تو یہ حال ہے کہ گویا انہوں نے ڈاکٹروں کی طرح تشریح کر کے خدا تعالیٰ کو دیکھ لیا ہے۔تب ہی تو یہ خود بھی خدا بنتے ہیں۔حالانکہ یہ