ملفوظات (جلد 7) — Page 255
کے منہ پر مکڑی نے جالا تن دیا تھا۔اسے دیکھ کر ایک نے کہا کہ یہ جالا تو (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) کی پیدائش سے بھی پہلے کا ہے۔اس لیے وہ واپس چلے آئے۔یہی وجہ ہے جو اکثر اکابر عنکبوت سے محبت کرتے آئے ہیں۔غرض جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے باوجود ایک گروہ کثیر کے اس وقت ابو بکر ہی کو ساتھ لینا پسند کیا اسی طرح پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے صرف تھوما کو ساتھ لے لیا اور چلے آئے۔پس جب حواری ان کے ساتھ تھے تو پھر کوئی اعتراض نہیں رہتا۔دوسرا سوال اس پر یہ کرتے ہیں کہ جبکہ وہ ۸۷ سال تک زندہ رہے تو ان کی قوم نے ترقی کیوں نہ کی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا ثبوت دینا ہمارے ذمہ نہیں۔ہم کہتے ہیں ترقی کی ہوگی لیکن حوادث روزگار نے ہلاک کر دیا ہوگا۔کشمیر میں اکثر زلزلے اور سیلاب آتے رہتے ہیں۔مدت دراز کے بعد قوم بگڑ گئی۔لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا کہ وہ ایک قوم تھی۔اٰوَيْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِيْنٍ (المؤمنون:۵۱) کے متعلق بعض کہتے ہیں کہ وہ شام ہی میں تھا۔میں کہتا ہوں یہ بالکل غلط ہے۔قرآن شریف خود اس کے مخالف ہے اس لیے کہ اٰوٰی کا لفظ تو اس جگہ استعمال ہوتا ہے جہاں ایک مصیبت کے بعد نجات ملے اور پناہ دی جاوے۔یہ بات اس رومی سلطنت میں رہ کر انہیں کب حاصل ہو سکتی تھی۔وہ تو وہاں رہ سکتے ہی نہ تھے۔اس لیے لازمی طور پر انہوں نے ہجرت کی۔زندگی لائق اعتبار نہیں فرمایا۔زندگی اعتبار کے لائق نہیں۔اس پر مختلف امراض اور خصوصاً طاعون نے اور بھی خوف پیدا کر دیا ہے۔(قبل عصر) اصل طریق دعا ہے حضرت مخدوم الملت۱ کی بیماری کا تذکرہ تھا۔ایک بزرگ نے باتوں ہی باتوں میں حکایتاً عن الغیر ذکر کیا کہ بعض مسمریزم کے عامل توجہ سے مرض