ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 256 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 256

کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پر بدل دینے کے دعوے کرتے ہیں۔اس پر فرمایا۔یہ کچھ چیز نہیں۔میری طبیعت اس سے سخت نفرت کرتی ہے۔اصل طریق دعا ہے۔اس سے بہتر اور کوئی راہ نہیں ہے۔میں تو اس کے سوا دوسرے طریقوں کو ایسا سمجھتا ہوں جیسے قے کے ساتھ کسی بیماری کا علاج کیا جاوے۔پس کون پسند کرتا ہے کہ قے کے ساتھ علاج ہو۔سچا اور خدا شناسی کا جو طریق ہے جسے انبیاء علیہم السلام نے استعمال کیا وہ یہی دعا ہے۔۱ ۲۴؍ستمبر۱۹۰۵ء (قبل دوپہر) مومن کا بھروسہ خدا تعالیٰ پر ہوتا ہے مخد۲وم الملت کی بیماری کے تذکرہ پر مندرجہ ذیل تقریر فرمائی۔اگر انسان کا وجود اللہ تعالیٰ کے بغیر ہوتا تو کچھ شک نہیں بڑی مصیبت ہوتی، مگر اب تو ذرّہ ذرّہ کی حفاظت وہ ایک ذات کر رہی ہے۔پھر کس بات کا غم اور خوف ہے۔اس کی قدرتیں عجیب ہیں اور اس کے تصرفات بے نظیر۔قادر خدا کو مان کر مومن کبھی غمگین نہیں ہوتا۔وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جو کچھ کرتا ہے اسی میں خیر و برکت ہوتی ہے۔مومن اور غیر مومن میں ایمان ہی کا تو فرق ہے۔دہریہ مزاج اور اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لانے والے کی زندگی اس وقت تک عمدہ اور بے خوف و خطر ہوتی ہے جب تک اس پر مصائب اور مشکلات کا حملہ نہیں ہوتا۔لیکن جب خفیف سے مشکلات بھی آکر ظاہر ہوتے ہیں تو اس کی عقل مار دیتے ہیں اور وہ ان کی برداشت نہیں کر سکتا۔اس کی امید اللہ تعالیٰ پر ہوتی ہی نہیں اور اسباب اسے مایوس کر دیتے ہیں۔ایسی حالت میں ذرا ذرا سی بات خلافِ مزاج پیش آجانے پر بعض اوقات یہ لوگ خود کشیاں کر لیتے ہیں۔یورپ میں جہاں دہریوں کی کثرت ہے وہاں اس قدر خود کشیاں ہوتی ہیں کہ کسی اور ملک میں ان کی نظیر نہیں ملتی۔اس کی وجہ کیا ہے؟ یہی کہ وہ لحکم جلد ۹ نمبر ۳۵ مورخہ ۱۰؍اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۴،۵