ملفوظات (جلد 7) — Page 236
یہ قلم کے جہاد کا زمانہ ہے فرمایا۔میرے نزدیک تو یہ ضرورت ایسی ضرورت ہے کہ جس شخص پر حج فرض ہے اسے بھی چاہیے کہ وہ اپنا روپیہ اس دینی جہاد میں صرف کر دے۔ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پانچوں نمازیں اکٹھی پڑھنی پڑی تھیں۔لیکن اب چونکہ تلوار کا جہاد نہیں بلکہ صرف قلم کا جہاد رہ گیا ہے اس لیے اسی ذریعہ سے اس میں ہمت، وقت اور مال کو خرچ کرنا چاہیے۔خوب سمجھ لو کہ اب مذہبی لڑائیوں کا زمانہ نہیں۔اس لیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں جو لڑائیاں ہوئی تھیں اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ جبراً مسلمان بنانا چاہتے تھے بلکہ وہ لڑائیاں بھی دفاع کے طور پر تھیں۔جب مسلمانوں کو سخت دکھ دیا گیا اور مکہ سے نکال دیا گیا اور بہت سے مسلمان شہید ہو چکے تب اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اسی رنگ میں ان کا مقابلہ کرو۔پس وہ حفاظت خود اختیاری کے رنگ میں لڑائیاں کرنی پڑیں مگر اب وہ زمانہ نہیں ہے ہر طرح سے امن اور آزادی ہے۔ہاں اسلام پر جو حملے ہوتے ہیں وہ قلم کے ذریعہ ہوتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ قلم ہی کے ذریعہ ان کا جواب دیا جاوے۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں ایک مقام پر فرماتا ہے کہ جس قسم کی طیاریاں تمہارے مخالف کرتے ہیں تم بھی ویسی ہی طیاریاں کرو۔اب کفار کی طیاریاں جو اسلام کے خلاف ہو رہی ہیں ان کو دیکھو وہ کس قسم کی ہیں؟ یہ نہیں کہ وہ فوجیں جمع کرتے ہوں۔نہیں بلکہ وہ تو طرح طرح کی کتابیں اور رسالے شائع کرتے ہیں۔۱ اس لیے ہمارا