ملفوظات (جلد 7) — Page 237
یہی فرض ہے کہ ہم بھی ان کے جواب میں قلم اٹھائیں اور رسالوں اور کتابوں کے ذریعہ ان کے حملوں کو روکیں۔یہ نہیں ہو سکتا کہ بیماری کچھ ہو اور علاج کچھ اور کیا جاوے۔اگر ایسا ہو تو اس کا نتیجہ ہمیشہ غیر مفید اور برا ہو گا۔یقیناً یاد رکھو کہ اگر ہزاروں ہزار جانیں بھی ضائع کر دی جائیں اور اسلام کے خلاف کتابوں کا ذخیرہ بدستور موجود ہو تو اس سے کچھ بھی فائدہ نہیں ہو سکتا۔اصل یہی بات ہے کہ ان کتابوں کے اعتراضوں کا جواب دیا جاوے۔پس ضرورت اس امر کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن پاک کیا جاوے۔مخالفوں کی طرف سے جو کارروائی ہو رہی ہے اس کا انسداد بجز قلم کے نہیں ہو سکتا۔یہ نری خام خیالی اور بیہودگی ہے جو مخالف تو اعتراض کریں اور اس کا جواب تلوار سے ہو۔خدا تعالیٰ نے کبھی اس کو پسند نہیں کیا۔یہی وجہ تھی جو مسیح موعود کے وقت میں اس قسم کے جہاد کو حرام کر دیا۔اس ملک میں تو عیسائیوں کی ایسی تحریریں شائع ہوتی ہی رہتی ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ فتنہ اسی ملک میں ہے مگر معلوم ہوا ہے کہ دوسرے ملکوں میں بھی اس قسم کی شرارتیں ہو رہی ہیں۔مصر اور بلادِ شام