ملفوظات (جلد 7) — Page 230
ہم سب کے واسطے دعا کرتے ہیں میاں نبی بخش صاحب نے عرض کی ہے کہ ایک ہندو نے مجھے تاکید کی تھی کہ میرے واسطے حضرت سے دعا کرائیں۔فرمایا۔ہندو یا کسی اور مذہب کا آدمی جو دعا کے واسطے درخواست کرے ہم سب کے واسطے دعا کرتے ہیں۔ذکر آیا ایک شخص نے اپنے بیٹے کا نام استغفر اللہ رکھا ہے۔فرمایا۔اچھا ہے جتنی دفعہ اس کو بلائے گا خدا تعالیٰ سے استغفار کرتا رہے گا۔قریب رہنے والے ہمیشہ نشانات دیکھتے رہتے ہیں مولوی نور الدین صاحب کے صاحبزادہ عبد الحئی کا ذکر تھا کہ اس کے متعلق پہلے سے خبر دی تھی۔فرمایا۔اجنبی دشمن اور دور رہنے والا کیا حاصل کر سکتا ہے جو لوگ قریب رہتے ہیں وہ ہمیشہ نشانات دیکھتے رہتے ہیں۔پاس رہنے والے تو آپ بیتی کے نشان بھی دیکھ لیتے ہیں۔اِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيْمٌ صبح ایک دوست نے عرض کی میرے گھر سے خبر آئی ہے کہ تمہارا لڑکا سخت بیمار ہے جلد آؤ مگر بیماری کی تفصیل نہیں۔حضور دعا فرماویں۔فرمایا۔میں دعا کروں گا۔لیکن بعض دفعہ عورتیں صرف بلانے کے واسطے بھی ایسا لکھ دیا کرتی ہیں۔چنانچہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم اس جگہ قادیان میں تھے کہ میر ناصر نواب صاحب کے گھر سے خط آیا کہ والدہ اسحاق فوت ہوگئی ہیں اور اسحاق بھی قریب المرگ ہے۔یہ خط اسحاق کے بھائی کا لکھا ہوا تھا جو اس وقت بہت چھوٹی عمر کا تھا۔میں اس خط کو پڑھ کر بہت پریشان ہوا۔کیونکہ اس وقت ہمارے گھر میں بیمار تھے بخار چڑھا ہوا تھا۔ایسی حالت میں ان کو والدہ کی وفات کی خبر سنانا ہرگز مناسب نہ تھا۔میں اسی فکر میں تھا کہ الہام ہوا اِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيْمٌ جس سے میں نے سمجھ لیا کہ یہ صرف بلانے کا بہانہ ہے ورنہ دراصل خیر ہے۔اس وقت مولوی عبد الکریم صاحب اس جگہ تھے ان کو سنایا گیا اور حافظ حامد علی کو بھی سنایا گیا اور اسی کو وہاں بھیجا گیا تو بات وہی نکلی جو خدا نے بذریعہ