ملفوظات (جلد 7) — Page 229
ہیں کیونکہ یہ صرف مصیبت کے وقت کا رونا ہے اور مصیبت کے ذرا ہٹنے کے بعد پھر وہی سخت دلی ان میں پائی جاتی ہے۔اس بارش پر بھی خوش نہیں ہونا چاہیے۔جو بات الہام الٰہی سے ہم کو معلوم ہوئی ہے وہ یہی ہے کہ اس زمانہ کے لیے دن خیر کے نہیں ہیں اور یہ سچ ہے کہ اگر خدا ان بلاؤں کو نازل نہ کرے تو پھر دین کی خیر نہیں۔تین قسم کے لوگ ہیں۔خواص، اوسط درجہ کے لوگ اور عوام۔خواص تو دہریہ مذہب بن رہے ہیں۔ان کو دین کی کچھ پروا نہیں بلکہ دین پر ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں۔اوسط درجہ کے لوگ خواص کے تابع ہیں۔عوام مثل وحشیوں کے ہیں۔تمام دنیا کی حالت اس وقت بگڑی ہوئی ہے۔مقدمہ والے ہیں تو جھوٹھے گواہوں کے بنانے میں مصروف ہیں۔زمیندار ہے تو شریعت کو چھوڑ بیٹھا ہے۔ملازم ہے تو اپنی ملازمت کے حقوق ادا نہیں کرتا۔تاجر ہے تو اپنی تجارت میں قسما قسم کے دھوکھوں میں مصروف ہے۔جب تک لوگ تقویٰ اختیار نہیں کریں گے خدا ہرگز ان پر راضی نہ ہوگا اور نہ یہ بلائیں ان کے سر سے ٹلیں گی۔۱ ۱۶؍ستمبر ۱۹۰۵ء حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے بارہ میں ایک دوست کا خواب شیخ نور احمد صاحب جالندھر سے اور منشی نبی بخش صاحب کوئٹہ سے حضرت اقدسؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔شیخ نور احمد صاحب نے اپنا ایک خواب عرض کیا کہ میں نے دیکھا کہ مولوی عبد الکریم صاحب مسجد میں کھڑے ہیں اور وعظ کرتے ہیں اور یہ آیت پڑھتے ہیں اُولٰٓىِٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(البقرۃ:۶) فرمایا۔اس سے بظاہر مولوی صاحب کی صحت کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔واللہ اعلم فرمایا۔یہ مرض مہلک ہے اور آثار مرض بھی خطرناک ہیں۔لیکن دعا بہت کی گئی ہے۔سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جب وہ چاہتا ہے ایک تنکے سے شفا ہو جاتی ہے اور جب وہ نہیں چاہتا لاکھ دوائی بے سود ہے۔