ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 224 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 224

عبداللہ سنوری والا خواب میں نے دیکھا جس سے نہایت درجہ غمناک دل کو تشفی ہوئی۔جو گذشتہ اخبار میں چھپ چکا ہے۔۱ امت کی تشبیہ عورت سے اس دعا میں میں نے ایک شفاعت کی تھی جیسا کہ خواب کے الفاظ سے بھی ظاہر ہے کہ یہ شخص میرا دوست ہے خدا کی قدرت اور اس کا عالم الغیب ہونا ظاہر ہونا تھا کہ مولوی صاحب بچ گئے۔خدا کی کتب میں نبی کے ماتحت امت کو عورت کہا جاتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں ایک جگہ نیک بندوں کی تشبیہ فرعون کی عورت سے دی گئی ہے اور دوسری جگہ عمران کی بیوی سے مشابہت دی گئی ہے۔اناجیل میں بھی مسیح کو دولہا اور امت کو دلہن قرار دیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ امت کے واسطے نبی کی ایسی ہی اطاعت لازم ہے جیسی کہ عورت کو مرد کی اطاعت کا حکم ہے۔اسی واسطے ہماری رؤیا میں عبد اللہ نے کہا کہ میری بیوی بیمار ہے۔ایک رؤیا کی تعبیر عبد اللہ نبی کا نام ہے۔قرآن شریف میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام عبد اللہ آیا ہے۔مٹھن سے مراد وہ لذت اور راحت صحت کی ہے جو بیماری کی تلخی کے بعد نصیب ہوتی ہے مقبول سے مراد ہے کہ دعا قبول ہوگئی۔یہ سب گہرے استعارات ہیں اور تمثلات ہیں۔جب تک آسمان پر نہ ہو زمین پر کچھ ہو نہیں سکتا۔مولوی صاحب کا اس بیماری سے صحت پانا ایک بڑا معجزہ ہے۔مطالعہ کتب کی تلقین سب دوستوں کے واسطے ضروری ہے کہ ہماری کتب کم از کم ایک دفعہ ضرور پڑھ لیا کریں۔کیونکہ علم ایک طاقت ہے اور طاقت سے شجاعت پیدا ہوتی ہے۔جس کو علم نہیںہوتا مخالف کے سوال کے آگے حیران ہوجاتا ہے۔مولوی محمد حسین بٹالوی کے متعلق ایک رؤیا بٹالوی کا ذکر تھا۔ایک دوست نے عرض کی کہ کہیں مرنے کے وقت توبہ