ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 223 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 223

اور ساتھ پھر غنودگی کی حالت ہوگئی۔تب میںنے دیکھا کہ اس وقت میں کہتا ہوں مقبول کو بلاؤ اس کے کاغذ پر دستخط ہوگئے ہیں۔یہ جو مٹھن لال دیکھا گیا ہے۔ملائک طرح طرح کے تمثّلات اختیار کر لیا کرتے ہیں۔مٹھن لال سے مراد ایک فرشتہ تھا۔سنوری سے یہ مراد ہے۔سنور عربی میں بلّی کو کہتے ہیں اور تعبیر کی رو سے بلّی ایک بیماری کا نمونہ ہے۔عبد اللہ سنوری سے مراد ہوئی وہ عبد اللہ جو بیمار ہے۔فرمایا۔طب تو ظاہری محکمہ ہے۔ایک اس کے وراء محکمہ پردہ میں ہے جب تک وہاں دستخط نہ ہو۔کچھ نہیں ہوتا۔۱ ۷؍ستمبر ۱۹۰۵ء وحی کا ایک طریق فرمایا کہ بعض دفعہ وحی اس طرح بھی نازل ہوتی ہے کہ کوئی کاغذ یا پتھر وغیرہ دکھایا جاتا ہے جس پر کچھ لکھا ہوا ہوتا ہے۔فرمایا۔اللہ تعالیٰ کے نشان اس طرح کےہوتے ہیں کہ ان میں قدرت اور غیب ملا ہوا ہوتا ہے اور انسان کی طاقت نہیں ہوتی کہ ان کو ظاہر کر سکے۔حضرت مولوی عبد الکریم سیالکوٹی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی علالت فرمایا۔مولوی صاحب کی زیادہ علالت کے وقت میں بہت دعا کرتا تھا اور بعض نقشے میرے آگے ایسے آئے جن سے نا امیدی ظاہر ہوتی تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا موت کا وقت ہے اور ظاہر طب کی رُو سے بھی معاملہ خوفناک تھا کیونکہ ذیابیطس والے کو سرطان ہوجائے تو پھر بچنا مشکل ہوتا ہے اس دعا میں مَیں نے بہت تکلیف اُٹھائی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے بشارت نازل کی اور