ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 225 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 225

کرے گا؟ فرمایا۔اللہ تعالیٰ ہر شے پر غالب ہے۔ایک وہ زمانہ تھا کہ ہماری جوتیاں جھاڑ کر آگے رکھتا تھا۔ہم کو وضو کرانا ایک بڑا ثواب جانتا تھا۔براہین کا ریویو اس نے خود بخود لکھا ہماری درخواست نہ تھی۔تعجب نہیں کہ وہ کسی وقت پہلی حالت پر پھر لوٹ آئے جیسا کہ ہم رؤیا میں دیکھ چکے ہیں۔بعض خوابیں مدت کے بعد پوری ہوتی ہیں۔یہ رؤیا چھپ چکا ہے جس میں میں نے دیکھا تھا کہ وہ ایک چھوٹا لڑکا ہے ننگا، رنگ سیاہ اور بد شکل ہے۔میں نے اس کو اشارہ سے بلایا تب وہ آیا اور میرے گلے لگا اورپورے قد کا ہوگیا اور اس پر لباس بھی ہے اور رنگ سفید ہے۔تب میں نے کہا کہ آپ کا ہمارا اس قدر مقابلہ رہا ممکن ہے کہ قلم سے یا زبان سے کوئی سخت لفظ نکل گیا ہو تم بخش دو۔اس نے کہا اچھا میں نے بخشا۔تب میں نے کہا کہ تم نے جو ایذا ہم کو دی تھی وہ بھی ہم نے بخش دی۔تب ہم نے اس کی دعوت کی جس کو اس نے کچھ تردّد کے بعد قبول کیا اور ایک شخص جان کندن میں ہے تب میں نے کہا کہ یہ مقدّر تھا کہ جس دن یہ شخص مرے اس دن تم توبہ کرو۔انبیاء کے ساتھ ہجرت بھی ہے آج کے الہام مَسِیْـرُ الْعَـرَبِ کا ذکر تھا۔فرمایا۔اس کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ عرب میں چلنا۔شاید مقدر ہو کہ ہم عرب میں جائیں۔مدت ہوئی کہ کوئی پچیس چھبیس سال کا عرصہ گذرا ہے ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک شخص میرا نام لکھ رہا ہے تو آدھا نام اس نے عربی میں لکھا ہے اور آدھا انگریزی میں لکھا ہے۔انبیاء کے ساتھ ہجرت بھی ہے۔لیکن بعض رؤیا نبی کے اپنے زمانہ میں پورے ہوتےہیں اور بعض اولاد یاکسی متبع کے ذریعے سے پورے ہوتے ہیں۔مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قیصر و کسریٰ کی کنجیاں ملی تھیں تو وہ ممالک حضرت عمرؓ کے زمانہ میں فتح ہوئے۔۱