ملفوظات (جلد 7) — Page 222
نہیں ہوسکتا کہ خدا اس سے کلام کرے اور وحی کا سلسلہ بند ہے تو یہ ایک مردہ مذہب کے ساتھ دوسرے پر کیا اثر ڈالیں گے؟ یہ لوگ صرف اپنے پر ظلم نہیں کرتے بلکہ دوسروں پر بھی ظلم کرتے ہیں کہ ان کو اپنے بد عقائد اور خراب اعمال دکھا کر اسلام میں داخل ہونے سے روکتے ہیں۔ان کے پاس کون سا ہتھیار ہے جس سے یہ غیر مذاہب کو فتح کرنا چاہتے ہیں؟ جاپانیوں کو عمدہ مذہب کی تلاش ہے۔ان کی بوسیدہ اور ردی متاع کو کو ن لے گا؟ چاہیے کہ اس جماعت میں سے چند آدمی اس کام کے واسطے تیار کیے جائیں جو لیاقت اور جرأت والے ہوں اور تقریر کرنے کا مادہ رکھتے ہوں۔۱ ۳۱؍اگست ۱۹۰۵ء ایک رؤیا اور اس کی تعبیر ۳۱؍اگست کی رات کو دیکھا۔میں نے دیکھا کہ عبد اللہ سنوری میرے پاس آیا ہے اور وہ ایک کاغذ پیش کر کے کہتا ہے کہ اس کاغذ پر میں نے حاکم سے دستخط کرانا ہے اور جلدی جانا ہے۔میری عورت سخت بیمار ہے اور کوئی مجھے پوچھتا نہیں۔دستخط نہیں ہوتے۔اس وقت میں نے عبد اللہ کے چہرہ کی طرف دیکھا تو زرد رنگ اور سخت گھبراہٹ اس کے چہرہ پر ٹپک رہی ہے میںنے اس کو کہا کہ یہ لوگ روکھے ہوتے ہیں۔نہ کسی کی سپارش مانیں اورنہ کسی کی شفاعت۔میں تیرا کاغذ لے جاتا ہوں۔آگے جب کاغذ لے کر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص مٹھن لال نام جو کسی زمانہ میں بٹالہ میں اکسٹرا اسسٹنٹ تھا کرسی پر بیٹھا ہوا کچھ کام کر رہا ہے اور گرد اس کے عملہ کے لوگ ہیں۔میں نے جا کر کاغذ اس کو دیا اور کہا کہ یہ ایک میرا دوست ہے اور پرانا دوست ہے اور واقف ہے اس پر دستخط کر دو۔اس نے بلا تأمل اسی وقت لے کر دستخط کر دیئے پھر میں نے واپس آکر وہ کاغذ ایک شخص کو دیا اور کہا خبردار ہوش سے پکڑو! ابھی دستخط گیلے ہیں اور پوچھا کہ عبد اللہ کہاںہے؟ انہوں نے کہا کہ کہیں باہر گیا ہے۔بعد اس کے آنکھ کھل گئی