ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 221 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 221

۲۳اگست ۱۹۰۵ء ۲۳؍ اگست ۱۹۰۵ء کو بعد عصر جناب شیخ رحمت اللہ صاحب حصول اجازت کےلئے آپ کے حضور حاضر تھے۔مجھے بھی اس تقریب پر حصول معذرت کا موقع مل گیا۔فرمایا۔خدا کا شکر ہے کہ زخم مل گیا ہے۔لیکن ابھی ضعف باقی ہے۔نماز میں سجدہ کرتا ہوں تو سر چکرانے لگتا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ ذرا آرام ہو جائے تو اپنے کام میں لگ جاؤں۔۱ رؤیا دیکھا کہ میں ایک جگہ کھڑا ہوں۔آگے ایک پردہ ہے۔پردہ کے پیچھے سے آواز آئی۔’’تو جانتا ہے میں کون ہوں میں خدا ہوں جس کو چاہتاہوں عزت دیتا ہوں جس کو چاہتا ہوں ذلت دیتا ہوں۔‘‘ فرمایا۔قرآن شریف میں آیا ہے وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا فَيُوْحِيَ بِاِذْنِهٖ مَا يَشَآءُ اِنَّهٗ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ(الشورٰی:۵۲) یعنی کسی آدمی کے لائق نہیں کہ خدا اس سے کلام کرے مگر بذریعہ وحی کے یا پردہ کے پیچھے سے یا کسی فرستادہ کے ذریعہ سے۔جو اس کے حکم سے جیسا وہ چاہتا ہے وحی کرتا ہے۔وہ عالی شان اور حکمتوں والا خدا ہے۔۲ ۲۶؍اگست ۱۹۰۵ء آج نماز ظہر میں مسجد مبارک میں قبل از نماز ذکر آیا کہ جاپان میں اسلام کی طرف رغبت معلوم ہوتی ہے اور بعض ہندی مسلمانوں نے وہاں جانے کا ارادہ کیا ہے۔اس پر فرمایا۔جاپان میں اسلام کی تبلیغ جن کے اندر خود ہی اسلام کی روح نہیں وہ دوسروں کو کیا فائدہ پہنچائیں گے؟ جب یہ قائل ہیں کہ اب اسلام میں کوئی اس قابل