ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 210

ہو پھر بھی کوئی اسے نہیں کھائے گا کیونکہ جانتا ہے کہ اس کو ہلاک کرنے والی زہر ہے۔لیکن اسی طرح پر گناہ بھی ایک زہر ہے جو انسان کی روح کو ہلاک کرتا ہے۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایمان رکھتا ہے تو پھر بڑی دلیری اور جرأت سے گناہ کیوں کرتا ہے؟ اگر اسے یہ معرفت ہو کہ کوئی محاسب بھی ہے تو اس قدر دلیری نہ کرے۔یہ دلیری اور جرأت عدم معرفت کا نتیجہ اور ثمرہ ہے۔غرض اسلام اور دوسرے مذاہب میں جو امتیاز ہے وہ یہی ہے کہ اسلام حقیقی معرفت عطا کرتا ہے جس سے انسان کی گناہ آلودہ زندگی پر موت آجاتی ہے اور پھر اسے ایک نئی زندگی عطا کی جاتی ہے جو بہشتی زندگی ہوتی ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ اگر قرآن شریف سے اعراض صوری یا معنوی نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس میں اور اس کے غیروں میں فرقان رکھ دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ پر کامل یقین اور ایمان پیدا ہوتا ہے۔اس کی قدرتوں کے عجائبات وہ مشاہدہ کرتا ہے۔اس کی معرفت بڑھتی ہے۔اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اس کو وہ حواس اور قویٰ دیئے جاتے ہیں کہ وہ ان چیزوں اور اسرار قدرت کو مشاہدہ کرتا ہے جو دوسرے نہیں دیکھتے وہ ان باتوں کو سنتا ہے کہ اوروں کو اس کی خبر نہیں اسی لیے فرمایا مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى (بنی اسـرآءیل: ۷۳) اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس جہاں کے لیے انسان اسی عالم سے حواس لے جاتا ہے۔اسی جگہ سے وہ بصارت لے جاتا ہے جو وہاں کی اشیاء اور عجائبات کو دیکھے اور یہاں ہی سے وہ شنوائی لے جاتا ہے جو سنے۔گویا جو اس جہان میں وہاں کی باتیں دیکھتا اور سنتا نہیں وہ وہاں بھی نہیں دیکھ سکے گا۔یہ تھا مابہ الامتیاز اسلام اور دوسرے مذاہب کے درمیان جس کو میرے مخالف پیش نہیں کرتے اور خدا تعالیٰ نے اسی فرقان کو دے کر مجھے بھیجا ہے۔اب سوال ہوتا ہے کہ جبکہ یہ مابہ الامتیاز ہے تو کیوں ہر شخص نہیں دیکھ لیتا؟ اس کا جوا ب یہ ہے کہ سنّت اللہ اسی پر واقع ہوئی ہے کہ یہ بات بجز مجاہدہ، توبہ اور تبتل تام کے نہیں ملتی چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ الَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت:۷۰) یعنی جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کریں گے انہی کو یہ راہ ملے گی۔پس جو