ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 211

لوگ خدا تعالیٰ کے وصایا اور احکام پر عمل نہ کریں بلکہ ان سے اعراض کریں ان پر یہ دروازہ کس طرح کھل جائے؟ یہ نہیں ہوسکتا۔اگر کوئی شخص کہے کہ یہاں ایک خزانہ مدفون ہے اور دس بارہ دن کی محنت کے بعد نکل سکتا ہے اور کوئی شخص محنت تو کرے نہیں اور یہ کہے کہ خزانہ مل جاوے۔کیونکر ملے گا؟ اسی طرح پر یہ خزانہ اللہ تعالیٰ نے اسلام میں رکھا ہے لیکن اس خزانہ کی کلید احکام اور ہدایتوں پر عمل ہے۔اس کی وصیت اور ہدایت پر عمل کرنا اور محض خدا کے لیے نفس کو روک رکھنا یہ کنجی ہے اور اسلام ہی میں یہ ملتی ہے۔مَنْ يَّبْتَغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ ( اٰل عـمران: ۸۶) اسلام ایک چشمہ ہے اگر کوئی شخص اس پر جا بیٹھا ہے اور منہ رکھ کر اس سے سیراب ہو کر نہیں پیتا تو اس کا اپنا قصور ہے اس چشمہ کا کیا قصور ہے؟ اگر کوئی شخص آفتاب کی طرف سے اپنے دروازے اور کھڑکیاں بند کر لیتا ہے تو ضرور ہے کہ اس کے کمرہ میں تاریکی آجاوے اس میں آفتاب کا کوئی قصور نہیں۔اس لیے جب تک انسان سچا مجاہدہ اور محنت نہیں کرتا وہ معرفت کا خزانہ جو اسلام میں رکھا ہوا ہے اور جس کے حاصل ہونے پر گناہ آلود زندگی پر موت وارد ہوتی ہے۔انسان خدا تعالیٰ کو دیکھتا ہے اور اس کی آوازیں سنتا ہے اسے نہیں مل سکتا۔چنانچہ صاف طور پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَاْوٰى (النّٰـزعٰت:۴۱،۴۲) یہ تو سہل بات ہے کہ ایک شخص متکبرانہ طور پر کہہ دے کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہوں اور باوجود اس دعویٰ کے اس ایمان کے آثار اور ثمرات کچھ بھی پیدا نہ ہوں یہ نری لاف زنی ہوگی۔ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی کچھ پروا نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ بھی ان کی پروا نہیں کرتا۔اصل بات یہی ہے کہ یہ دولت مجاہدہ اور محنت کے بغیر ہاتھ نہیں آتی ہے اور ان راہوں پر چلنا سب کے لیے ضروری ہے۔یہاں تک کہ انبیاء و رسل کے لیے بھی یہی راہ ہے۔ان کو جو فتوحات دیئے جاتے ہیں وہ اسی راہ سے ملتے ہیں۔انبیاء علیہم السلام تو اس راہ میں فنا ہو جاتے ہیں اور وہی حالت ہوتی ہے جب ان سے معجزات صادر ہوتے ہیں۔وہ عام لوگوں سے بالکل نرالی قوم ہوتی ہے۔ہر شخص تو یہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کی تعریف کریں۔اس کی عزت اور شہرت ہو۔برخلاف اس