ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 205

بیہودہ اعتراض کرتے ہیں۔ان کے ہاں تو نجات کسی کو ملتی ہی نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ تناسخ مان بیٹھے ہیں۔ہم یقین رکھتے ہیں اور یہ بالکل سچی بات ہے کہ اس عالم کی تکالیف کا اجر دوسرے عالم میں ملتا ہے۔جس طرح پر انبیاء و رسل کو ملتا ہے اسی طرح پر دوسرے لوگوں کو ملتا ہے۔سنت اللہ یہی ہے۔اور انسانی کمزوری ضروری تھی تاکہ وہ خدا تعالیٰ کا ہمسر نہ ہو۔ہاں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر کے مظہر تجلیات الٰہیہ ہوتا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ مصائب اور شدائد اٹھائے اور بہت سی ماریں کھائے۔۱ یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ اس کی سچائی تجربہ سے ثابت ہو رہی ہے۔پس جب ایک واقعہ تجربہ سے ثابت ہو جاوے تو اس پر بحث فضول ہے۔فرمایا۔تناسخ کی دلیل میں جو امیر اور مفلس کا تفاوت پیش کیا جاتا ہے۔یہ بھی ایک بیہودہ بات ہے۔اس لیے کہ غنی کے لیے زکوٰۃ اور صدقات رکھے ہیں کہ وہ ادا کرے اور مفلس کے لیے صبر رکھا ہے اور دونوں کے لیے اجر ہے۔اس کی ایسی مثال ہے جیسے کسی نے دو چار کوس کا راستہ طے کرنا ہو ایک شخص کے پاس تو عمدہ عمدہ کھانے ہوں اور دوسرے کے پاس ستو ہی ہوں دونوں ہی اس راستہ کو طے کر لیں گے اور منزل مقصود پر جا کر اپنے اعمال کے موافق فائدہ اٹھائیں گے۔۲ تناسخ پر تو اس قدر اعتراض ہوتے ہیں کہ آدمی حیران ہوجاتا ہے۔مثلاً ایک طرف تو یہ لوگ ناطہ رشتہ میں دور دراز کے گوتوں اور ذاتوں کا لحاظ کرتے ہیں۔۳ دوسری طرف اگر ایک بچہ کی ماں یا بہن