ملفوظات (جلد 7) — Page 189
چھوڑو مجھے تو اس کا فکر ہو رہا ہے کہ خدا کی ہستی ہی پر ان کو یقین نہیں رہا۔اس مقام پر حضرت حکیم الامت نے عرض کی کہ کل میں نے اپنے درس میں ایک موقع پر اپنی جماعت کو خطاب کر کے کہا کہ سنو! تم نے اس سلسلہ میں داخل ہو کر کیا لیا؟ دنیا تو تم پر لعنت بھیجتی ہے اگر خدا کے ساتھ ہی تمہارا معاملہ صاف نہ ہو اور باہم بغض کینہ اور دشمنی رہی تو پھر خدا سے کیا لیا؟ حضرت اقدس نے فرمایا خدا سے کیا لینا تھا۔کچھ بھی نہیں۔بالکل سچ ہے۔حضرت منشی احمد جان کا ذکر خیر منشی احمد جان صاحب مرحوم و مغفور مشہور صوفی لودہانوی کے ذکر خیر میں حضرت حکیم الامت نے عرض کیا کہ انہوں نے طب روحانی کے سلسلہ میں اور بھی دو تین جلدیں لکھنے کا ارادہ کیا تھا لیکن حضور کے دعوے کو سن کر انہوں نے اس طریق کو چھوڑ دیا اور اسے محض کھیل تماشہ قرار دیا۔جس سے مجھے ان کے ساتھ بڑی محبت ہوگئی۔حضرت حجۃ اللہ نے فرمایا مجھے بھی انہوں نے ایسا ہی خط لکھا تھا۔دعا ہی اصلیت ہے غرض آپ کا ذکر خیر ہوتا رہا۔ان کے اخلاص کے ذکر میں توجہ اور سلبِ امراض کے علم کا ذکر ہوا۔اس پر فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے اسلام میں جو طریق شفا کا رکھا ہے وہ تو دعا ہی کا طریق ہے اپنے نفس اورتوجہ پر بھروسہ کرنا یہ بھی ایک قسم کا شرک ہے۔لیکن جب انسان خدا سے دعا کرتا ہے تو یہ سب باتیں فنا ہوجاتی ہیں اور انسان پھر اصل پناہ کی طرف دوڑتا ہے۔پس یاد رکھو کہ دعا ہی اصلیت ہے۔باقی جو کچھ ہے وہ نرا خبط ہے۔دعا کی عجیب عجیب تاثیریں میں نے تجربہ کی ہیں۔ایک بار میں درد دانت سے سخت تکلیف میں تھا عمر دراز نام ایک گردَاوَر ہمارے ہاں آیا ہوا تھا۔میں نے اس سے پوچھا کہ دانت کے درد کا علاج بھی آپ کو معلوم ہے۔اس نے کہا علاجِ دندان اخراجِ دندان۔میں نے جب یہ بات سنی تو خیال کیا کہ دانت کا نکلوانا بھی ایک عذاب ہی ہے۔میں اس وقت ایک چٹائی پر بیٹھا ہوا تھا اور درد کی