ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 188

کہ میں نے بھی براہین میں ایسا ہی لکھا تھا مگر وہ نہیں سمجھتے کہ یہی بات ہماری صداقت کی گواہ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم کوئی منصوبہ بازی نہیں کرتے۔خود اسی کتاب براہین میں ہمارا نام مسیح رکھا گیا اور خدا تعالیٰ کے تمام وعدے اسی کے اندر ہیں۔اگر یہ غلطی مجھ سے براہین احمدیہ میں صادر نہ ہوتی تو ایک بناوٹ معلوم ہوسکتی تھی۔۱ ۸؍اگست ۱۹۰۵ء (دربار شام) موجودہ دنیا کی حالت فرمایا۔آج میں نے بارش کے لیے دعا کی تھی دعا کے ساتھ ہی دل میں یہ خیال گذرا کہ یہ حبس اور امساک باراں اللہ تعالیٰ کے قضاء و قدر کے موافق ہے اور اس میں دخل دینا مناسب نہیں۔اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے۔’’دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔‘‘ ہر قسم کے مصائب شدائد اس کے زور آور حملوں میں آتے ہیں اور یہ سب ایک قسم کی پیشگوئیاں ہیں اور جو کچھ ہو رہا ہے بہر حال ہمارے لیے مفید ہے۔کیا عجب کہ قحط کے رنگ میں بھی کوئی حملہ ظاہر ہونے والا ہو۔فرمایا۔دنیا کی حالت اور رنگ دیکھا جاوے تو وہ بہت کچھ بدلا ہوا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ ایسی حالت ہوگئی ہے کہ گویا حسن ظن کا موقع ہی نہیں رہا۔کیونکہ اگر ہر پہلو سے بد ظنی ہی ظاہر ہو تو انسان کہاں تک اس پر حسن ظن کرے گا۔میں حیران ہوتا ہوں جب دیکھتا ہوں کہ دنیا میں سوائے دہریت مکر و فریب کے اور کوئی بات نظر نہیں آتی۔بالکل طبیعتیں دنیا ہی پر مائل ہوگئی ہیں۔یہاں تک کہ دین کا کام بھی اگر کوئی اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو اس میں بھی ان باتوں کا دخل ہے۔یا تو وہ محض دنیا کا لالچ ہے یا دنیا کی ملونی ہے۔ایسی حالت میں میں نے سوچا کہ اگر کوئی مرتا ہے تو پھرمرے۔میں حیران ہوتا ہوں کہ لوگ تو اَور اَور باتوں کے لیے روتے ہیں۔میں کہتا ہوں کہ اَور باتوں کو