ملفوظات (جلد 7) — Page 156
کا لڑکا چند روز کی عمر پاکر فوت ہو چکا ہے۔اس پر فرمایا۔جو بچہ مرجاتا ہے وہ فرط ہے۔انسان کو عاقبت کے لیے بھی کچھ ذخیرہ چاہیے۔میں لوگوں کی خواہش اولاد پر تعجب کیا کرتا ہوں۔کون جانتا ہے اولاد کیسی ہوگی۔اگر صالح ہو تو انسان کو دنیا میں کچھ فائدہ دے سکتی ہے اور پھر مستجاب الدعوات ہو تو عاقبت میں بھی فائدہ دے سکتی ہے۔اکثر لوگ تو سوچتے ہی نہیں کہ ان کو اولاد کی خواہش کیوں ہے اور جو سوچتے ہیں وہ اپنی خواہش کو یہاں تک محدود رکھتے ہیں کہ ہمارے مال و دولت کا وارث ہو اور دنیا میں بڑا آدمی بن جائے۔اولاد کی خواہش صرف اس نیت سے درست ہو سکتی ہے کہ کوئی ولدِ صالح پیدا ہو جو بندگانِ خدا میں سے ہو لیکن جو لوگ آپ ہی دنیا میں غرق ہوں وہ ایسی نیت کہاں سے پیدا کر سکتے ہیں۔انسان کو چاہیے کہ خدا سے فضل مانگتا رہے تو اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے۔نیت صحیح پیدا کرنی چاہیے۔ورنہ اولاد ہی عبث ہے۔دنیا میں ایک بے معنی رسم چلی آتی ہے کہ لوگ اولاد مانگتے ہیں اور پھر اولاد سے دکھ اٹھاتے ہیں۔دیکھو! حضرت نوحؑ کا لڑکا تھا کس کام آیا۔اصل بات یہ ہے کہ انسان جو اس قدر مرادیں مدّ ِنظر رکھتا ہے اگر اس کی حالت اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہو تو خداا س کی مرادوں کو خود پوری کر دیتا ہے اور جو کام مرضی الٰہی کے مطابق نہ ہوں ان میں انسان کو چاہیے کہ خود خدا تعالیٰ کے ساتھ موافقت کرے۔شافی مطلق ایک بیمار اور اس کے علاج کا ذکر تھا۔فرمایا۔ہر ایک مرض اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلّط ہوتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے مرض ہٹ جاتا ہے۔ایمانداری ایک مَد کے متعلق فنڈ کا تذکرہ تھا۔فرمایا۔خدا تعالیٰ سمیع و علیم ہے۔اس سے دعا کرتے رہو خدا برکت دے گا۔اس رمز کا سمجھنا ایمانداری ہے۔۱