ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 155 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 155

الْخٰلِقِيْنَ (المؤمنون:۱۵) قبل وحی قرآن کے دوسروں کے منہ پر یہ الفاظ جاری تھے۔چنانچہ یہی بات اُن بدبختوں کے واسطے موجب ارتداد ہوئی۔دوم یہ الفاظ جس شاعر کے ہیںوہ کافر نہ تھا بلکہ مسلمان ہوگیا تھا۔سوم اصل بات یہ ہے کہ یہ الفاظ جب تک ایک شاعر کے شعر کے طور پر تھے تب تک ان میں کوئی معجزہ نہ تھا۔لیکن جب خدا نے اپنی وحی کے لیے ان کو استعمال فرمایا تب یہ معجزہ بن گئے۔پہلے تو یہ ایک گذشتہ قصہ تھا مگر اب کلام الٰہی اور ایک پیشگوئی اور معجزہ بن گیا۔فرمایا۔کتاب براہین احمدیہ حصہ پنجم میں مَیں کچھ اشعار لکھ رہا تھا اور گھر سے قریب ہی سوئے ہوئے تھے کہ اچانک وہ اٹھے اور ان کی زبان پر یہ الفاظ جاری تھے۔ع صوفیا سب ہیچ ہے تیری تراہ تیری تراہ ہم نے اس الہامی مصرعہ کو بھی ان اشعار کے درمیان درج کر دیا ہے۔تثلیث کسی نے ذکر کیا ہے کہ عیسائیوں نے تثلیث پر چند نئے رسالے لکھے ہیں اور اب تثلیث کا نام ثالوث رکھا ہے۔فرمایا۔یہ زمانہ ہی ان کے ثالوث کا فیصلہ کر جائے گا۔تبرکات کچھ تبرکات کا ذکر تھا۔فرمایا۔تبرکات کا ہونا مسلمانوں کے آثار میں پایا جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کے بال ایک شخص کو دیئے تھے۔ہمیں الہام ہوا ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔۱ ۱۳؍جون ۱۹۰۵ء صالح اولاد کی خواہش کرنا چاہیے قاضی غلام حسین صاحب ویٹرنری اسسٹنٹ حصار حاضر خدمت ہوئے۔چند روز ہوئے قاضی صاحب