ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 157 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 157

۱۴جون ۱۹۰۵ء خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں سب کچھ ہے ایک شخص بیمار ملنے کے واسطے آیا۔اس کے معالجہ کا ذکر تھا۔فرمایا۔خدا کے نزدیک کوئی بات انہونی نہیں ہے۔میر صاحب کا لڑکا محمد اسحاق سخت بیمار ہوا۔ڈاکٹر نے مایوسی ظاہر کی ہم نے دعا کی۔الہام ہوا سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ پر خدا کا رحم ہے کوئی بھی اس سے ڈر نہیں۔دنیا سرائے فانی ہے اور معمولی موت فوت لگی ہوئی ہے۔خدا اس کی پروا نہیں کرتا لیکن جہاں کوئی پیچ پڑجاتا ہے اور دین پر اعتراض وارد ہوتا ہے۔وہاں تو خدا اپنا قانون بھی بدل دیتا ہے اور معجزہ نمائی کرتا ہے۔یوں تو مرنا کوئی حرج یا دکھ کی بات نہیں جن کو ہم کہتے ہیں کہ مرگیا ہے وہ دوسرے جہان میں چلا جاتا ہے۔اور وہ جہان نیک آدمیوں کے لیے بہت عمدہ ہے مگر جہاں کوئی اعتراض دین کے لیے مزاحم ہوتا ہے وہاں خدا تعالیٰ عجائبات ظاہر کرتا ہے۔دنیوی حکّام بھی ایسا کرتے ہیں کہ کسی اہم ملکی ضرورت کے وقت قانون کی بھی پروا نہیں کرتے۔خدا کے ہاتھ میں سب کچھ ہے۔اس نے دو گھر بنائے ہیں۔ادھر سے اٹھا کر ادھر آباد کر دیتا ہے۔ھو الشّافی طب اور معالجات کا تذکرہ تھا۔فرمایا۔یہ سب ظنی باتیں ہیں۔علاج وہی ہے جو خدا تعالیٰ اندر ہی اندر کر دیتا ہے جو ڈاکٹر کہتا ہے کہ یہ علاج یقینی ہے وہ اپنے مرتبہ اور حیثیت سے آگے بڑھ کر قدم رکھتا ہے۔بقراط نے لکھا ہے کہ میرے پاس ایک دفعہ ایک بیمار آیا۔میں نے بعد دیکھنے حالات کے حکم لگایا کہ یہ ایک ہفتہ کے بعد مر جائے گا۔تیس سال کے بعد میں نے اس کو زندہ پایا۔بعض ادویہ کو بعض طبائع کے ساتھ مناسبت ہوتی ہے۔اسی بیماری میں ایک کے واسطے ایک دوا مفید پڑتی ہے اور دوسرے کے واسطے ضرر رساں ہوتی ہے۔جب بُرے دن ہوں تو مرض سمجھ میں نہیں آتا۔اور اگر مرض سمجھ میں آجائے تو پھر علاج نہیں سوجھتا۔اسی واسطے مسلمان جب ان علوم کے