ملفوظات (جلد 7) — Page 152
۳جون ۱۹۰۵ء بچوںکی وفات پر صبر کی تلقین عاجز راقم ۱ کی لڑکی سعیدہ بیگم بعمر تین سال آٹھ ماہ بعارضہ اُمّ الصبیان فوت ہوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بمع جماعت باغ میں جنازہ پڑھا اور مجھے مخاطب کرکے فرمایا۔اولاد جو پہلے مرتی ہے وہ فرط ہوتی ہے۔حضرت عائشہؓ نے رسول کریمؐ سے عرض کی تھی کہ جس کی کوئی اولاد نہیں مرتی وہ کیا کرے گا؟ فرمایا میں اپنی امت کا فرط ہوں۔فرمایا۔آپ صبر کریں۔اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اس کے عوض میں لڑکا دے گا۔صبر تو خواہ مخواہ کرنا ہی پڑتا ہے۔لڑکیوں کے معاملات بھی مشکل ہوتے ہیں۔اَلْـخَیْـرُ فِیْ مَا وَقَعَ۔انشاء اللہ کہنے کا مقصد فرمایا۔لفظ انشاء اللہ تعالیٰ کہنے میں انسان اپنی کمزوری کا اظہار کرتا ہے کہ میں تو چاہتا ہوں کہ یہ کام کروں۔لیکن خدا نے توفیق دی تو امید ہے کہ کر سکوں گا۔ایمان کی جڑ نماز ہے فرمایا۔جس طرح بہت دھوپ کے ساتھ آسمان پر بادل جمع ہوجاتے ہیں اور بارش کا وقت آجاتا ہے۔ایسا ہی انسان کی دعائیں ایک حرارت ایمانی پیدا کرتی ہیں اور پھر کام بن جاتا ہے۔نماز وہ ہے جس میں سوزش اور گدازش کے ساتھ اور آداب کے ساتھ انسان خدا کے حضور میں کھڑا ہوتا ہے۔جب انسان بندہ ہو کر لاپرواہی کرتا ہے تو خدا کی ذات بھی غنی ہے۔ہر ایک امت اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک اس میں توجہ الی اللہ قائم رہتی ہے۔ایمان کی جڑ بھی نماز ہے۔بعض بیوقوف کہتے ہیں کہ خدا کو ہماری نمازوں کی کیا حاجت ہے؟ اے نادانو! خدا کو حاجت نہیں مگر تم کو تو حاجت ہے کہ خدا تمہاری طرف توجہ کرے۔خدا کی توجہ سے بگڑے ہوئے کام سب درست ہوجاتے ہیں۔نماز ہزاروں خطاؤں کو دور کر دیتی ہے اور ذریعہ حصول قرب الٰہی ہے۔