ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 151 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 151

پوری کامیابی نہیں ہوئی جیسی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی۔حضرت موسیٰ اپنے وعدہ کی زمین تک نہ پہنچ سکے اور راستہ میں ہی فوت ہوگئے اور ان کے ساتھیوں نے کہا کہ اے موسیٰ! تو اور تیرا خدا مل کر مخالفوں سے جا کر لڑو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔مگر آنحضرتؐکے اصحاب نے کہا کہ ہم تیرے ساتھ چلیں گے اگرچہ سمندر میں گریں اور قتل کئے جائیں۔قاعدہ ہے کہ نبی کا پَرتَوہ امت پر بھی پڑتا ہے۔جب استاد کامل ہوتا ہے ایسے ہی شاگرد بھی بنتے ہیں جیسے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت افعال و اعمال اور کامیابی کی نظیر نہیں ویسے ہی صحابہ کی بھی نظیر نہیں۔صحابہؓ باوجود قلیل ہونے کے جدھر جاتے فتح پاتے۔صحابہ ایسے تھے جیسے کسی برتن کو بہت دھو کر بالکل صاف اور ستھرا کر دیا جاتا ہے اور اس میں کسی قسم کی آلائش کا شائبہ نہیں رہتا۔ان کی ایسی محنت اور اخلاص تھا تو خدا نے پھر بدلہ بھی ایسا دیا۔حضرت ابو بکر کو آنحضرتؐکا خلیفہ بنایا۔شیعوںکی غلطی اس جگہ شیعوں نے بڑی غلطی کھائی ہے کہ خلافت کا حق حضرت علی کو تھا۔بدقسمت نہیں دیکھتے کہ خدا نے کیا فیصلہ کیا جو وقت وعدوں کے پورا ہونے کا تھا اس وقت خدا نے ایک منافق اور اہل بیت کے دشمن کو کیوں گدی پر بٹھا دیا۔میں جانتا ہوں کہ اس قوم نے بھی عیسائیوں کی طرح ایک غلو کیا ہے اور اس غلو کا باعث اصلی نامرادی ہے جو ابتدا میں حاصل ہوئی۔جو لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ یسوع کو ظاہری بادشاہت حاصل ہوگی ان کو جب اس معاملہ میں ناکامی حاصل ہوئی تو انہوں نے یسوع کی صفت میں غلو کر کے یسوع کو خدا ہی بنا دیا۔ایسا ہی قومِ شیعہ نے بھی حضرت علی کو وہ درجہ دئیے ہیں جو خدا نے نہ چاہا کہ ان کو دے۔خدا کا معاملہ ہر ایک کے ساتھ اس کے دل کی حالت کے مطابق ہوتا ہے۔اگر ان کے پاس نورِ ایمان ہوتا تو ایسی بات نہ بولتے۔کیا اس وقت خدا کمزور تھا اور وہ بدلہ لے نہ سکتا تھا یا خدا پالیسی باز تھا۔حضرت ابوبکرؓ کو طاقتور دیکھ کر خاموش رہا۔۱