ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 140 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 140

لوگوں کو تشفی ہوگئی۔فرمایا۔لوگ منجم پرست ہیں۔خدا پرست نہیں ہیں۔سبحان اللہ کے معنی ایک شخص نے اپنا خواب سنایا کہ میں سبحان اللہ پڑھتاہوں۔فرمایا۔سبحان اللہ کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ خلافِ وعدہ اور کذب اور دیگر تمام منقصتوں سے پاک ہے وہ اپنے وعدوں کو سچا کرتا اور پیشگوئیوں کو پورا کرتا ہے۔۱ ۱۶؍مئی ۱۹۰۵ء فرمایا۔سورہ اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ میں زلزلہ کے واسطے صاف پیشگوئی ہے کہ زمین پر سخت زلزلہ آئے گا۔اور زمین اندر کی چیزیں باہر نکال پھینکے گی۔پہاڑوں کی ساخت فرمایا۔قرآن شریف میں آیا ہے کہ پہاڑ زمین کی میخیں ہیں۔نادان اعتراض کرتے ہیں کہ یہ کیا بات ہے۔اس زلزلہ نے اس اعتراض کو بھی صاف کیا ہے۔ان آتش فشانیوں اور زلزلوں کا موجب یہ پہاڑ ہی ہوا کرتے ہیں۔جب پہاڑوں پر تباہی پڑتی ہے تو سب پر تباہی پڑتی ہے۔پہاڑ امن یا بے امنی کا مرکز بنا ہوا ہے۔۲ ۱۷؍مئی ۱۹۰۵ء معالج کے لئے ہدایت ایک ڈاکٹر صاحب کا ذکر آیا کہ انہوں نے ایک بیمار کو خوفناک بتایا تھا۔بعد میں معلوم ہوا کہ وہ تندرست ہے۔فرمایا۔یہ لوگ ایسی غلطیاں کھاتے ہیں۔ہمارے مسلمان اطباء میں کیا عمدہ بات ہے کہ لکھا ہے کہ نبض دیکھنے سے پہلے طبیب یہ پڑھا کرے سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ۔۔۔الْحَكِيْمُ تک۳(البقرۃ:۳۳)