ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 141 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 141

تو پاک ہے ہمیں کوئی علم نہیں سوا اس کے جو تو نے ہم کو سکھایا تحقیق تو علم اور حکمت والا ہے۔۱ ۲۱؍مئی ۱۹۰۵ء لڑکیاں اور لڑکے اور ان کے والی بعض وجوہات سے خود قادیان میں حاضر نہیں ہو سکتے تھے۔لیکن ان کی دلی خواہش تھی کہ یہ نکاح قادیان میںہو اور ایسے جلسہ میں ہو جس میں خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام موجود ہوں۔چنانچہ یہ درخواست سیالکوٹ سے یہاں حضرت کی خدمت میں آئی۔حضرت اقدسؑ نے فرمایاکہ یہ شرعی مسئلہ ہے۔بذریعہ تحریر اجازت کے بعد اس جگہ نکاح ہوسکتا ہے۔۲ ۲۵؍مئی ۱۹۰۵ء ایک خادم نے عرض کی کہ مخالف حضور کی نسبت جھوٹی خبریں بیماری وغیرہ کی شائع کرتے رہتے ہیں اور ہمیں سناتے ہیں۔فرمایا۔مخالفین خواہ مخواہ ایسی بات کرتے ہیں جس سے تم کو اشتعال پیدا ہو اور لڑائی ہو جائے۔ایسے فتنوں سے بچنا چاہیے اور صبر کرنا چاہیے۔جو شخص کسی پر تہمت لگاتا ہے وہ مرتا نہیں جب تک کہ اس میں گرفتار نہ ہوجائے۔ایک خادم نے عرض کی کہ تمام قسموں کے دردوں کے واسطے یہ بڑا عمدہ علاج ہے کہ بُھرجی کی ریت ہو۔اس پر الحمد لکھا جائے وغیرہ وغیرہ۔فرمایا۔یہ توجہ کی ایک قسم ہے مگر یاد رکھو کہ دعا جیسی پاک صاف اور شرک سے خالی کوئی توجہ