ملفوظات (جلد 7) — Page 136
انسان کو دہریہ بنا دیتا ہے۔ہر شے میں ایک اثر ہوتا ہے۔چونکہ انگریزی زبان میں بہت سی کتابیں اس قسم کی ہیں جو دہریت یا دہریت کی طرف جھکے ہوئے خیالات اپنے اندر رکھتی ہیں۔اس واسطے بغیر کسی زبردست رشد اور فضل الٰہی کے ہر ایک شخص اس سے کچھ نہ کچھ حصہ ضرور لے لیتا ہے۔آج کل دنیا کے لیے حد سے زیادہ زور لگایا جاتا ہے مگر معاش کے لیے سب دروازے کھلے ہیں۔افراط کا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا۔دنیا میں بہت لوگ ایسے ہیں کہ وہ خدا پر ایمان رکھنے کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں۔کیا آخرت کے لیے وہ اس قدر محنت اور جان خراشی کرتے ہیں جس قدر کہ وہ دنیا کے لیے کر رہے ہیں۔ان کو معلوم ہی نہیں کہ اس طرف کا معاملہ بھی کبھی پڑے گا۔نوجوان نے عرض کی میں نے عربی بھی ساتھ ساتھ پڑھی ہے۔حضرت نے فرمایا۔ہم تو صرف اتنے پر بھی خوش نہیں ہو سکتے۔کیا ہزاروں مولوی ایسے نہیں ہیں جو بڑے بڑے علوم عربیہ کی تحصیل کر چکے ہیں۔مگر پھر بھی وہ اس سلسلہ حقہ کی مخالفت کرتے ہیں اور وہ علوم ان کے واسطے اور بھی زیادہ حجاب کا موجب ہو رہے ہیں۔ہزاروں مولوی ہیں جو بجز گالیاں دینے کے اور کچھ کام نہیں رکھتے۔بیشک معارف قرآنی کا ذخیرہ سب عربی میں ہے تا ہم جب ایک مدت گذر جاتی ہے اور خدا کے ایک رسول کو بہت زمانہ گذر جاتا ہے تب لوگوں کے ہاتھ میں صرف الفاظ ہی رہ جاتے ہیں جن کے معانی اور معارف کسی پر نہیں کھل سکتے جب تک کہ اللہ تعالیٰ ان کے واسطے کوئی چابی پیدا نہ کر دے۔جب خدا کی طرف سے راہ کھلتا ہے تب کوئی منور قلب والا زندہ دل پیدا کیا جاتا ہے۔وہ صاحب حال ہوتا ہے اس واسطے اس کی تفسیر درست ہوتی ہے۔زندہ دل کے سوا کچھ نہیں۔یہ باتیں سیدھی ہیں مگر افسوس ہے کہ ان لوگوں کو سمجھ نہیں آتی۔(نوجوان۔جہالت ہے۔) خدا کہتا ہے کہ حضرت مسیحؑفوت ہوگئے۔حدیث نبوی سے بھی یہی ثابت ہے کہ فوت ہوگئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مُردوں میں دیکھا۔پھر بھی ہمارے مخالف مولوی انکار کئے چلے جاتے ہیں۔