ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 135 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 135

فِی الدِّیْنِ جب اللہ تعالیٰ کسی کے واسطے بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے دین میں فہم عطا کر دیتا ہے۔آج کل لوگوں کو انگریزی تعلیم نے فریفتہ کر رکھا ہے اور اکثر لوگ ایسے ہیں کہ ان کو دوسرے گھر کا ایمان ہی نہیں اور اگر کسی کو ہے تو ایسا کہ ہونا نہ ہونا برابر ہے۔مگر اس وقت اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ اپنا چہرہ دکھلاوے۔مخلوق کی قساوت قلبی انتہاء تک پہنچ گئی ہے اور لوگوں نے نرمی سے فائدہ نہیں اٹھایا اس واسطے وہ اب قہری نشان بھی دکھانا چاہتا ہے۔سعید ہیں وہ لوگ جو قبل ایسے نشانات کے واقع ہوجانے کے ایمان لاویں ورنہ فرعون کی طرح آفت میں پڑ کر ایمان لانا مفید نہیں ہوتا۔جو لوگ بعد میں ایمان لاتے ہیں وہ برگزیدہ پاک جماعت میں داخل نہیں ہوسکتے۔آپ کا ہمارے پاس آنا دو نتائج سے خالی نہیں۔یا تو قبل از وقت آپ پر اثر پڑے یا بعد میں آپ کو حسرت حاصل ہو۔(نوجوان۔خدا کرے دوسری بات نہ ہو) جس سلطنت کے نیچے لوگ رہتے ہیں اس کا اثر مخلوق پر ضرور ہی ہوتا ہے۔لوگ اگرچہ بظاہر ایک مذہب رکھتے ہیں تا ہم ان کا سارا رخ دنیا کی طرف ہے اور خدا کی طا قتوں پر ایمان نہیں ہے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی سنت قدیمہ کے مطابق پھر جلوہ دکھائے۔یہ زمانہ نوح کے زمانہ سے بہت ملتا ہے۔اس وقت بھی لوگ اکثر دہریہ تھے۔خدا فرماتا ہے کہ کُنْتُ کَنْـزًا مَّـخْفِیًّا فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ میں ایک مخفی خزانہ تھا پھر میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں۔صرف انگریزی زبان میں کوئی کتنی ہی ترقی کرلے اس کا نتیجہ بجز دنیا کے اور کچھ نہیں ہے۔یوں دیکھ لینا چاہیے کہ جو بچے ایسے ہیں کہ ان کے ماں باپ ہر دو انگریز ہیں ان کا انگریزی میں کمال ان کو دین کے لیے کیا فائدہ دے سکتا ہے کیونکہ یہ زبان وہ نہیں جس کے ساتھ فخر کیا جاسکے۔معاش بیشک انسان پیدا کر سکتا ہے۔مگر معاش تو ایک مزدور بھی ویسی ہی پیدا کر لیتا ہے بلکہ وہ مزدور اچھا ہے کیونکہ اس کے ساتھ وساوس نہیں ہیں۔ہمارا منشا یہ نہیں کہ انگریزی نہ پڑھو۔خود ہماری جماعت میں بہت انگریزی خواں ہیں اور بی۔اے، ایم۔اے تک تعلیم یافتہ ہیں اور معزز سرکاری عہدوں پر ملازم ہیں لیکن ہمارا منشا یہ ہے کہ اس سے نیک فائدہ اٹھاؤ اور اس کے بُرے فلسفہ سے بچو جو