ملفوظات (جلد 7) — Page 130
نہیں ہوئی جب تک انہوں نے نہیں لکھا۔بہرحال باہم ہمدردی ہو اور میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت سے اس طاعون کو اٹھا لے۔آمین۱ گیارہ ماہ۲ پہلے زلزلہ کی خبر ذکر آیا کہ ایک اخبار میں لکھا ہے کہ جوتشی نے پیشگوئی کی ہے کہ اب زلزلہ کا کوئی خوف نہیں۔فرمایا۔یہ اور بھی خوشی کی بات ہے۔خدا نہیں چاہتا کہ اپنے غیب کی خبر میں دنیا داروں کو بھی شامل کرے۔اب صاف ہوجائے گا کہ جوتشی سچے ہیں یا خدا کا کلام صحیح ہے۔اگر یہ جوتشی اور علم طبقات الارض کے ماہر انگریز ایسے ہی دانا ہیں کہ وہ زلزلوں کی خبروں سے پہلے ہی واقف ہوجاتے ہیں تو یقیناً انہوں نے گورنمنٹ انگریزی سے بڑی عداوت کی جو اس کے متعلق پہلے سے اطلاع دے کر ہزاروں جانوں اور کروڑوں روپے کے مال کو تلف ہونے سے نہ بچا لیا۔کیونکہ انہوں نے چھ ماہ پہلے خبر و اطلاع نہ دی کہ ایسی سخت مصیبت آنے والی ہے۔ہم نے تو گیارہ ماہ پہلے خبر دے دی تھی کہ ایسی آفت آنے والی ہے جس سے مکانات گر جائیں گے اور مٹ جائیں گے اور وہ ایک زلزلہ کا دھکا ہوگا۔اس میں لفظ بھی ایک تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلا دھکا ہی بہت تیز ہونے والا تھا۔چنانچہ سب مکانات ایک دفعہ ہی گر گئے۔یہاں تک کہ جو لوگ برانڈوں میں تھے وہ دوڑ کر باہر نہیں آسکے اور جو لیٹے ہوئے تھے وہ بیٹھ نہیں سکے اور جو بیٹھے ہوئے تھے ان کو کھڑا ہونے کا وقت نہیں ملا۔۳ ۲۹؍اپریل ۱۹۰۵ء ایک رؤیا گذشتہ رات کو ۲بجنے میں سات منٹ باقی تھے جبکہ ہم نے یہ رؤیا دیکھا کہ زمین ہلتی ہے۔پہلے ہم نے خیال کیا کہ شاید ویسے ہی کچھ حرکت ہوئی ہے۔مگر پھر زور سے