ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 131 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 131

ایک دھکا لگا تب یقین ہوا کہ زلزلہ ہے۔اور میں گھر کے آدمیوں کو جگاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اٹھو زلزلہ آیا۔مبارک کو بھی اٹھا لو۔اور یہ بھی رؤیا میں کہتا ہوں کہ جوتشی کس قدر جھوٹے ہیں۔پنڈت نے تو اخبار میں چھپوایا تھا کہ اب زلزلہ نہیں آئے گا۔اس کے بعد بیداری ہوئی۔۱ آج رات کی رؤیا کا ذکر تھا کہ سخت زلزلہ آیا اور گھر کے آدمیوں کو جگاتے ہیں۔فرمایا کہ آسمان پر ضرور کچھ تیاری معلوم ہوتی ہے۔ممکن ہے کہ ظاہر پر یہ بات محمول ہو اور ممکن ہے کہ اس سے مراد اور کوئی سخت آفت ہو۔بعض دفعہ ویسے بھی زمینوں میں خسف ہوجاتا ہے۔فرمایا۔اس (میں) مبارک کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ یہ امر ہمارے واسطے خیر و برکت کا موجب ہوگا گو دوسروں کے واسطے اس میں مصائب اور شدائد ہوں۔میں نے مناسب سمجھا ہے کہ اس واسطے ایک اور اشتہار لکھا جاوے۔بار بار کے سمجھانے سے ممکن ہے کہ کوئی آدمی سمجھ جائے۔ذکر آیا کہ لدھیانہ میں ایک فحش گو نے پھر گالیاں دینے پر کمر باندھی ہے۔فرمایا کہ اب ایسے لوگوں سے اعراض ہی اچھا ہے۔ہم کیا جواب دے سکتے ہیں۔خدا خود ہی اب تو جواب دینے لگ پڑا ہے۔نزولِ آفات کا سبب ذکر ہوا کہ ایک شہر میں ایسا بگولہ آیا ہے کہ شہر کے ایک حصہ کو بالکل تباہ کر گیا ہے۔اور دریائے بیاس کا پانی پہاڑ کے گرنے سے رک گیا ہے اور خوف ہے کہ جب وہ یک دفعہ پھٹے گا تو بڑا سخت طوفان نازل ہوگا۔فرمایا۔ہر طرف سے آفات کا سامنا ہے۔چاروں عناصر انسان کو تباہ کرنے کے در پے ہیں۔کیونکہ اس نے خدا کی نافرمانی کی۔فرمایا۔صرف باتوں سے کام پورا نہیں ہوتا۔سنّت اللہ ہمیشہ یہی ہے کہ نشانات دکھائے جاتے ہیں۔الہامات کے الفاظ میں بھی استعارات ہوتے ہیں۔زلزلہ سے مراد کبھی زلزلہ ہوتا ہے کبھی آفت شدید۔