ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 129 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 129

جو شخص ہمدردی کو چھوڑتا ہے وہ دین کو چھوڑتا ہے۔قرآن شریف فرماتا ہے مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ الآیۃ(المائدۃ:۳۳) یعنی جو شخص کسی نفس کو بلاوجہ قتل کر دیتا ہے وہ گویا ساری دنیا کو قتل کرتا ہے۔ایسا ہی میں کہتا ہوں کہ اگر کسی شخص نے اپنے بھائی کے ساتھ ہمدردی نہیں کی تو اس نے ساری دنیا کے ساتھ ہمدردی نہیں کی۔زندگی سے اس قدر پیار نہ کرو کہ ایمان ہی جاتا رہے۔حقوق اخوت کو کبھی نہ چھوڑو۔وہ لوگ بھی تو گذرے ہیں جو دین کے لیے شہید ہوئے ہیں۔کیا تم میں سے کوئی اس بات پر راضی ہے کہ وہ بیمار ہو اور کوئی اسے پانی تک نہ دینے جاوے۔خوفناک وہ بات ہوتی ہے جو تجربہ سے صحیح ثابت ہو۔بعض ملاں ایسے ہیں جنہوں نے صدہا طاعون سے مرے ہوئے مُردوں کو غسل دیا ہے اور انہیں کچھ نہیں ہوا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لیے فرمایا ہے کہ یہ غلط ہے کہ ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جاتی ہے۔وبائی ایام میں اتنا لحاظ کرے کہ ابتدائی حالت ہو تو وہاں سے نکل جاوے لیکن زور شور ہو تو مت بھاگے۔حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو کہا تھا کہ تم ابوابِ متفرقہ سے داخل ہونا اس لحاظ سے کہ مبادا کوئی جاسوس سمجھ کر پکڑ نہ لے۔احتیاط تو ہوئی لیکن قضاء و قدر کے معاملہ کو کوئی روک نہ سکا۔وہ ابواب متفرقہ سے داخل ہوئے لیکن پکڑے گئے۔پس یاد رکھو کہ سارے فضل ایمان کے ساتھ ہیں۔ایمان کو مضبوط کرو۔قطع حقوق معصیت ہے اور انسان کی زندگی ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔ایسا پرہیز اور بُعد جو ظاہر ہوا ہے وہ عقل اور انصاف کی رو سے صحیح نہیں ہے۔ایسے امور سے اپنے آپ کو بچاؤ جو تجربہ میں مضر ثابت ہوئے ہیں۔یہ جماعت جس کو خدا تعالیٰ نمونہ بنانا چاہتا ہے اگر اس کا بھی یہی حال ہوا کہ ان میں اخوت اور ہمدردی نہ ہو تو بڑی خرابی ہوگی۔میں دوسرا پہلو نہ بیان کرتا لیکن مجھے چونکہ سب سے ہمدردی ہے اس لیے اسے بھی میں نے بیان کرنا ضروری سمجھا یعنی جس کے واقعہ ہو جاوے اس کے ساتھ بھی اور جو بچے ہوئے ہیں ان کے ساتھ بھی۔افسوس ہے میں خود نہیں آسکا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عصر کے بعد مجھے چکر آتا ہے اور مجھے خبر تک