ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 89 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 89

ہے ماثورہ دعاؤں اور کلمات کے سوا اپنی مادری زبان میں بھی بہت دعاکیا کرو تا اس سے سوز و گداز کی تحریک ہو اور جب تک سوز و گدازنہ ہو اسے ترک مت کرو کیونکہ اس سے تزکیہ نفس ہوتا ہے اور سب کچھ ملتا ہے چاہیے کہ نماز کی جس قدر جسمانی صورتیں ہیں ان سب کے ساتھ دل بھی ویسے ہی تابع ہو اگر جسمانی طور پر کھڑے ہو تو دل بھی خدا کی اطاعت کے لیے ویسے ہی کھڑا ہو اگر جھکوتودل بھی ویسے ہی جھکے اگر سجدہ کرو تو دل بھی ویسے ہی سجدہ کرے دل کا سجدہ یہ ہے کہ کسی حال میں خدا کو نہ چھوڑے جب یہ حالت ہو گی تو گناہ دور ہونے شروع ہو جاویں گے معرفت بھی ایک شَے ہے جو کہ گناہ سے انسان کو روکتی ہے جیسے جو شخص سم الفار،سانپ اور شیر کو ہلاک کرنے والا جانتا ہے تووہ ان کے نزدیک نہیں جاتا ایسے ہی جب تم کو معرفت ہو گی تو تم گناہ کے نزدیک نہ پھٹکوگے اس کے لیے ضروری ہے کہ یقین بڑھا ؤ اور وہ دعا سے بڑھے گا اور نماز خود دعا ہے نماز کو جس قدر سنوار کرادا کرو گے اسی قدر گناہوں سے رہائی پاتے جاؤگے معرفت صرف قول سے حاصل نہیں ہوسکتی بڑے بڑے حکیموں نے خدا کو اس لیے چھوڑ دیا کہ ان کی نظر مصنوعات پر رہی اور دعا کی طرف توجہ نہ کی جیسا کہ ہم نے براہین میں ذکر کیا ہے مصنوعات سے تو انسان کوایک صانع کے وجود کی ضرورت ثابت ہوتی ہے کہ ایک فاعل ہونا چاہیے لیکن یہ نہیں ثابت ہوتا کہ وہ ہے بھی۔’’ہو نا چاہیے‘‘ اَور شَے ہے اور ’’ہے‘‘ اَور شَے ہے۔اس ’’ہے‘‘ کا علم سوائے دعا کے نہیں حاصل ہوتا، عقل سے کام لینے والے ’’ہے‘‘کے علم کو نہیں پاسکتے، اس لیے ہے خدارابخدا توان شناخت۔لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ (الانعام:۱۰۴)کے یہی معنے ہیں کہ وہ صرف عقلوں کے ذریعہ سے شناخت نہیں کیا جاسکتا بلکہ خود جوذریعے (اس)نے بتلائے ہیں ان سے ہی اپنے وجود کو شناخت کرواتا ہے اور اس اَمر کے لیے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتـحۃ:۶) جیسی اور کوئی دعا نہیں ہے۔اپنے بھائی کی غلطی دیکھ کر اس کے لئے دعا کرو صلاح تقویٰ، نیک بختی اور اخلاقی حالت کو درست کرنا چاہیے مجھے اپنی جماعت کا یہ بڑا غم ہے کہ ابھی تک یہ لوگ آپس میں ذراسی بات سے چِڑجاتے ہیں عام مجلس میں کسی کو احمق کہہ دینا بھی بڑی غلطی ہے اگر اپنے کسی بھائی کی غلطی دیکھو تو اس کے لیے دعا کرو کہ خدا اسے بچا لیوے یہ نہیں کہ منادی کرو جب کسی کا بیٹا بدچلن ہو تو اس کو سردست کوئی ضائع نہیں کرتا بلکہ اندر ایک گوشہ میں سمجھاتاہے کہ یہ بُرا کام ہے اس سے باز آجا۔پس جیسے رفق، حلم اور ملائمت سے اپنی اولاد سے معاملہ کرتے ہو ویسے ہی آپس میں بھائیوں سے کرو جس کے اخلاق اچھے نہیں ہیں مجھے اس کے ایمان کا خطرہ ہے کیونکہ اس میں تکبّر کی ایک جڑہے اگر خدا راضی نہ ہو تو گویا یہ برباد ہو گیا پس جب اس کی اپنی اخلاقی حالت کا یہ حال ہے تواسے دوسرے کو کہنے کا کیا حق ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۱ اس کا یہی مطلب ہے کہ اپنے نفس کو فراموش کرکے دوسرے کے عیوب کو نہ دیکھتا رہے بلکہ چاہیے کہ اپنے عیوب کو دیکھے چونکہ خود تو وہ پابندان امور کانہیں ہوتا اس لیے آخر کار لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ (الصف:۳) کا مصداق ہو جاتا ہے۔۱ البدر میں یہاں جگہ چھوٹی ہوئی ہے جو کاتب سے لکھنی رہ گئی ہے اور وہ آیت یہ معلوم ہوتی ہے (اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ )(البقرۃ : ۴۵) (مرتّب)